سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 655 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 655

655 کے دوست اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔اس کا چہرہ ایسا منحوس تھا اور آنکھوں میں کیڑے پڑے ہوئے تھے کہ کوئی اُس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ایک احمدی دوست نصیر احمد وہاں موجود تھے، چند ہفتے انہوں نے اس کی تیمار داری کی۔یہ وہی محمد نواز تھے جنہوں نے نصیر احمد کی بیوی اور بچیوں کو گاؤں سے نکلتے ہوئے اسلحہ کے زور پر دوبارہ گاؤں میں واپس کیا۔یعنی نصیر مظلوم کے بچے اور بیوی گاؤں سے باہر نکل رہے تھے تو یہی وہ شخص تھا جس نے بندوق دکھا کے اُن سب کو گاؤں میں واپس کر دیا تھا اور احمدیت سے متعرف ہونے پر مجبور کیا تھا۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود نمیر نے جیسا کہ ایک احمدی کا حق ہے انسانیت دوستی کا فرض نبھایا اور اس کی خدمت کی۔نواز، نصیر کی منتیں کرتا کہ مجھے نظر نہیں آتا، میں یہاں مرجاؤں گا، میرا یہ کرو، میرا وہ کرو۔نصیر نے آخر اس کے اصرار پر اپنے خرچ پر اُسے پاکستان بھیجوا دیا۔نصیر نے کہا کہ میں مجھے dead body کے طور پر بھیجوں گا اور تمہارے رشتے داروں کو فون کروں گا کہ تمہیں پہچان کر لے جائیں۔چنانچہ جب یہ لاہور پہنچا تو اُسے کوئی پہچان نہ سکا۔یہ ایئر پورٹ پر پڑا رہا۔اس کے رشتے داروں نے عملہ والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک شخص اپنا نام نواز بتاتا ہے۔وہ پڑا ہے اس کو پہچان کے لے جاؤ۔چنانچہ اسے چک سکندر اس حال میں لایا گیا۔مولوی امیر نے سپیکر پر پورے گاؤں سے اُس کی صحت یابی کے لئے دُعا کی اپیل کی۔مگر ساری دعائیں اکارت گئیں۔بالآخر ایک ہفتہ کے بعد شام کے وقت وہ شخص اسی طرح کیڑوں کے زخموں کی مارکھا تا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوا۔سندھ میں ایک مولوی محمد صادق صاحب اگر ہوا کرتے تھے جو نہایت ظالم اور خبیث فطرت انسان تھے اور انہوں نے اپنا یہ مقصود بنارکھا تھا کہ احمدیوں کو قتل کریں یا قتل کروائیں اور اُن کو قتل کرنے کے لئے پیسے بھی انعام کے طور پر مقرر کیا کرتا تھا۔۔۔مباہلے کے بعد بہت جلد یہ شخص اس طرح پکڑا گیا کہ 24 فروری 97ء کو قتل ہوا۔لیکن عام قتل نہیں ، خود اس کے بیٹوں نے اس کو قتل کیا۔اور بیٹے نے جو پولیس کے سامنے بیان دیادہ یہ تھا کہ یہ ایک ظالم اور سفاک انسان تھا، خواہ مخواہ مذہبی بنتا پھرتا تھا۔ہم جانتے ہیں کہ اپنے گھر کے لئے بھی ایک بہت ہی ظالم اور کر یہ المنظر انسان تھا۔چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کو ماریں گے۔چنانچہ