سلسلہ احمدیہ — Page 641
641 میں آؤ اور وہاں جا کر آمنے سامنے سارے اکٹھے ہوں۔اب سارا عالم اسلام کیسے وہاں اکٹھا ہو جائے گا اور ساری جماعت احمد یہ وہاں کیسے اکٹھی ہو جائے گی ؟ کس کس کو تم لاؤ گے؟ کون سا تمہارا اتفاق ہے؟ فضول لغو باتیں۔اور مکے کی سرزمین کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ مباہلوں کے لئے تو کبھی بھی کسی ایک سرزمین کا انتخاب نہیں ہوا۔وہ جو مباہلے کا چیلنج تھا وہ تو مدینے میں ہوا تھا ویسے بھی، ملے کے دور میں تو ہوا ہی نہیں تھا وہ مباہلہ۔نہ ان کو اسلام کی تاریخ کا پتہ نہ شرائط کا کوئی علم۔اصل بات ہے لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِيين" خدا کی لعنت پڑے جھوٹوں پر۔اس کے لئے کونسی سر زمین کی ضرورت ہے۔پس اس جمعہ پر میں ایک فیصلہ کن رمضان کی توقع رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ کو تاکید کرتا ہوں کہ اس رمضان کو خاص طور پر ان دعاؤں کے لئے وقف کر دیں کہ اے اللہ ! اب ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما کہ تو احکم الحاکمین ہے۔مجھ سے بہتر کوئی فیصلہ فرمانے والا نہیں۔اور چونکہ مباہلے کے نام سے ان کی جان نکلتی ہے اور کہتے ہیں کہ احمدی بھاگ رہے ہیں۔بے وقوفی کی حد ہے۔مباہلے کا تو میں نے چیلنج دیا تھا۔ہم کیسے بھاگ رہے ہیں؟ چیلنج میں نے دیا ہے اور بھاگ میں گیا ہوں؟ وہ تو سب جگہ مشتہر پڑا ہوا ہے۔اسی چیلنج کی وجہ سے تو تم احمدیوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرتے رہے، شور ڈال دیا کہ انہوں نے ہمیں مباہلے کا چیلنج دے دیا ہے۔اور پھر کہتے ہو کہ بھاگ گئے۔قبول کر لیتے بھاگ کیسے سکتے تھے؟ ہم تو دے چکے تھے۔جس کی شرکش سے تیر نکل چکا ہو واپس کیسے لے سکتا ہے؟ اور پھر جب ضیاء نے بھی ہاں نہیں کی تو میں نے جمعہ میں اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے رات رؤیا میں ایسی خبر دی ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے عذاب کی چکی ہے وہ چل پڑی ہے اور یہ شخص اگر اپنی بے عزتی سمجھتا ہے کہ میں مرزا طاہر احمد کو جس کو میں نے عملاً ملک سے نکال باہر پھینکا ہے۔یعنی روکنے کے باوجود نکل گیا ہے، یہ مراد ہے۔وہ کیا چیز ہے، اس کی حیثیت کیا ہے، میں اس کے چیلنج کا جواب کیوں دوں۔میں نے کہا اگر ان صاحب کی یہ سوچ ہے تو اس کا علاج یہ بتا تا ہوں کہ آئندہ بدزبانیوں سے باز آجائے اور احمدیت کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں ان کی سنجیدگی سے پیروی