سلسلہ احمدیہ — Page 582
582 کی تحریک میں نے کی تھی۔جماعت نے والہانہ لبیک کہا۔کئی اسیران کو اس فنڈ سے امداد دی گئی مگر انہوں نے اسے واپس بلال فنڈ میں دے دیا اس لئے مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح جماعت کی محبت کا تحفہ ان کو پہنچاؤں۔پھر فرمایا: قرآن کریم کی اشاعت کے پروگرام کے ساتھ ہی اللہ تعالٰی نے میرا دل کھول دیا اور ایک بہت ہی پیارا خیال میرے دل میں پیدا ہوا کہ سیدنا بلال فنڈ سے ایک سوز بانوں میں ساری دنیا کو قرآن کریم کا یہ تحفہ پیش کیا جائے اور یہ سارے اسیر اور یہ سارے راہ مولیٰ میں تکلیف اٹھانے والے لازما اس میں شامل ہو جائیں گے۔ان کی طرف سے دنیا کو یہ تحفہ ہو گا۔اس سے بہتر جواب ان کے اوپر مظالم کا اور الہی جماعتیں دے ہی نہیں سکتیں۔“ (خطبات طاہر عید بین صفحہ 60) سیدنا بلال فنڈ سے اسیران راہ مولی اور شہداء کے پسماندگان، بیوگان و یتامیٰ کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔El Salvador کے بتائی کے متعلق تحریک حضور رحمہ اللہ نے 17 اکتوبر 1986ء کو ایل سلواڈور میں تباہی کے نتیجہ میں ہونے والے یتیم بچوں یا ایسے بچے جو ماں باپ سے الگ ہو گئے ان کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری لینے کی تحریک فرمائی۔اس تحریک کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الرائع نے خطبہ جمعہ فرموده 15 جنوری 1988ء میں فرمایا: El Salvador کے بتائی کے متعلق اگرچہ جماعتی کوششوں کے باوجود ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہو سکی کہ بحیثیت جماعت ہمیں بتائی مل جائیں لیکن بعض لوگوں نے اس تحریک میں شمولیت کی نیت کی تھی تو وہ بعض اور مقیم لے کر پالنے لگ گئے ہیں اور اس کی مجھے اطلاع مل رہی ہے۔یہ بہت خوشکن رجحان ہے۔ساری جماعت کو میں پھر یاد دہانی کرواتا ہوں که ضروری نہیں کہ السلواڈور کے یتیم ہوں، دنیا میں جہاں بھی یتیم ہے اس کی خدمت کرنا ایک بہت اچھا کام ہے۔اگر چہ بظاہر یہ مالی قربانی کی تحریک نہیں تھی مگر عملاً ایک نئے خاندان میں