سلسلہ احمدیہ — Page 583
583 ایک ذمہ داری کا اضافہ کرنا ایک مالی تحریک ہی بن جاتی ہے۔“ خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 49) اسیران کی خدمت کی تحریک حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 14 دسمبر 1987ء کو مسجد فضل لندن میں نظام شفاعت پر ایک پُر مغز اور روح پرور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور بتایا کہ انسان فرشتوں کے ساتھ ان کی صفات اور کاموں میں ہم آہنگی پیدا کر کے تعلق قائم کر سکتا ہے اور پھر وہ فرشتے اس فرد کے لئے خدا کے اذن سے اس کے حضور شفاعت کرتے ہیں۔خطبہ کے آخر پر فرمایا: اس پہلو پر غور کرتے ہوئے مجھے اسیران راہ مولی کا خیال آیا۔بہت دعائیں کی ہیں ان کے لئے۔ساری جماعت دعائیں کر رہی ہے اور بہت دلوں میں درد ہے اور ساری دنیا کی جماعت کے دلوں میں درد ہے اور ابھی تک ان کا ابتلا لمبا ہورہا ہے۔مجھے اس شفاعت کے مضمون پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ ان کی خاطر ہم ہر دوسرے اسیر سے تعلق رکھنا شروع کر دیں۔اسیران سے خواہ وہ راہ موٹی کے اسیر ہوں یا کسی قسم کے اسیر ہوں، اسیران کی بہبود کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تا کہ خدا کے فرشتوں سے ہمارا تعلق قائم ہو جائے۔ان فرشتوں سے تعلق قائم ہو جائے جن کو اسیری کے مضمون پر مامور فرمایا گیا ہے، جو اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا کرتے ہیں۔“ ( خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 834) آپ نے اس مضمون کو تفصیل سے سمجھاتے ہوئے فرمایا: جماعت احمدیہ کو اگر ساری دنیا میں اس طرف توجہ پیدا ہو اور جیل خانوں میں جولوگ جاسکتے ہیں، نظام کے تابع جو پروگرام بنائے جاسکتے ہیں وہاں اسیروں سے رابطے پیدا کئے جائیں، ان کے دکھ معلوم کئے جائیں۔میں جانتا ہوں کہ سمندر میں قطرہ کے برابر کوشش ہوگی۔مگر ہمارے قطرہ کے دائرے میں ہمارے مسائل تو حل ہو جائیں گے، جو ہمارا مقصد ہے وہ تو پورا ہو جائے گا۔ایک اور مقصد بھی پورا ہو گا جس سے ہمارے اندر چلا پیدا ہو گی۔ہماری انسانی قدریں