سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 35 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 35

35 وفاقی شرعی عدالت میں آرڈیننس 20 کو چیلنج پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے جو اسلام کو سیاسی عزائم کے لئے استعمال کر رہے تھے اور اس غرض کے لئے عدالتوں کے اختیارات پر بھی ضرب لگا رہے تھے ایک مارشل لاء ترمیم کے ذریعہ آئین تک کو بدل ڈالا تھا۔آئینی ترمیم کے ذریعہ وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی تھی جس کا دائرہ اختیار یہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ قرآن وسنت سے متصادم قوانین کو کالعدم قرار دے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ ملکی قانون کو قرآن وسنت کے پیمانے پر پرکھنے کے لئے وفاقی شرعی عدالت قائم کی جارہی ہے اور یہ گویا نفاذ اسلام کی طرف ایک قدم تھا۔آئینی اور قانونی معاملات پر نظر رکھنے والوں پر یہ بات واضح تھی کہ ایک متوازی نظام قائم کر کے دراصل اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کرنا مقصود تھا۔1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی غیر قانونی آمریت کو سہارا دینے کے لئے مذہبی انتہا پسندوں کا سہارالیا۔اس سلسلہ میں 1984ء کا آرڈیننس 20 جسے امتناع قادیانیت آرڈیننس کہا گیا ہے، نافذ کیا گیا۔اس قانون کے تحت مسجد کو مسجد کہنا اور اذان دینا قابل تعزیر جرائم ٹھہرائے گئے تھے۔احمدیوں کے لئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر بھی قید کی سزا مقرر کی گئی تھی اور بعض القابات کا استعمال بھی احمدیوں کے لئے قابل تعزیر بنا دیا گیا تھا۔اس قانون کے ذریعے احمدیوں کی مذہبی آزادی پر کاری ضرب لگائی گئی تھی اور احمدیوں کے لئے روزمرہ کے سماجی تعلقات اور مذہبی فرائض کی بجا آوری قابل تعزیر ہو کر رہ گئی تھی۔اس قانون کی زد براہ راست ہر احمدی پر پڑتی تھی۔وفاقی شرعی عدالت میں کوئی بھی شہری کسی بھی قانون کو اس بنیاد پر چیلنج کر سکتا تھا کہ مذکورہ قانون قرآن وسنت سے متصادم ہے۔اور یہ پابندیاں جو اس قانون کے تحت عائد کی گئیں وہ واضح طور پر قرآن وسنت سے معارض تھیں۔چنانچہ چند احمدیوں کی طرف سے انفرادی حیثیت میں ہائی کورٹ میں اس قانون کو آئین کے تحت بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی بناء پر چیلنج کیا گیا اور وفاقی شرعی عدالت میں ایک درخواست گزاری۔درخواست کی بنیاد یہی تھی کہ یہ آرڈینس تعلیمات اسلامی کے