سلسلہ احمدیہ — Page 536
536 سفارتخانوں کے معزز نمائندگان، اخبارات و ریڈیو کے نمائندگان، یونیورسٹی کے پروفیسرز، Saint Prix کے چرچ کے پادری ، مسجد کے بہت سے ہمسائے اور سوسائٹی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے کئی ایک مہمان شامل ہوئے۔اس موقع پر اس علاقہ کے میئر صاحب نے حضور انور کے خطاب سے قبل اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے بر ملا طور پر کہا کہ: " آج کا دن نہ صرف آپ لوگوں کے لئے خاص دن ہے بلکہ ہمارے لئے بھی خاص دن ہے۔آپ لوگ جو ایک پر امن جماعت ہیں جب آپ اسلام کا پیغام لے کر ہمارے اس علاقہ Saint Prix میں آئے تو ہم نے آپ کو خوش آمدید نہیں کہا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ محسوس ہوا کہ آپ پر امن جماعت ہیں۔آپ نے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔اس لئے اس خوشی کے موقع پر آج ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم بھی آج خوش ہیں۔میتر صاحب نے کہا کہ: گزشتہ 22 سال سے میں اس جماعت کو جانتا ہوں اور 22 سال کا عرصہ کسی کو جاننے کے لئے کافی ہے۔آج میں خود بر ملا اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ آپ کے محبت اور امن کے پیغام نے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔۔۔میئر نے کہا کہ۔۔۔آپ ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے قانون کی پابندی کرتے ہیں۔آپ نے بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔میں اس میں شامل ہوا تھا۔میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی جماعت حکومت کے قوانین اور اصولوں کی زیادہ پاسداری اور احترام کرتی ہے۔میئر نے کہا کہ آپ نہ صرف لوگوں کو سلامی تعلیم دیتے ہیں بلکہ اس تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ انسانیت کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ہمارے ساتھ مل کر آپ نے بہت سے پراجیکٹ میں حصہ لیا ہے جس سے دوسروں کی مدد ہوتی ہے۔“ اس موقع پر حضور انور ایدہ اللہ نے اپنے خطاب میں اسلام کی امن وسلامتی کی خوبصورت تعلیم اور جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت کے حوالہ سے بہت ہی دلکش اور اثر انگیز خطاب فرمایا جس کا