سلسلہ احمدیہ — Page 530
530 دوسری طرف خداے حسن وما اپنے پارے بنے لینی است اراہ کوایک کشٹ کے ذریعہ الرابع خوشخبریاں عنایت فرما رہا تھا۔پھر اس کشف کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ 1985ء میں جماعت احمد یہ فرانس نے Saint Prix کے علاقہ میں ایک سہ منزلہ عمارت بطور مشن ہاؤس خریدی۔13 سر اکتوبر 1985ء کو حضرت خليفة أسبح الرابع رحمہ اللہ نے اس مشن ہاؤس کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔آپ نے اس مشن ہاؤس کو بیت السلام کا نام عطا فرمایا۔1996ء میں حضور رحمہ اللہ نے جماعت احمدیہ فرانس کو ایک مسجد تعمیر کرنے کے لئے تحریک فرمائی۔90ء کی دہائی میں جماعت کو علاقہ کے مکینوں کی طرف سے سخت مخالفت اور کئی قسم کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔علاقہ کے میئر کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا اظہار تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مشن ہاؤس کو جماعتی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔ان نامساعد حالات میں بھی جماعت احمدیہ فرانس خلافت کی رہنمائی میں کسی نہ کسی رنگ میں کام کرتی رہی۔1998ء کے آخر میں علاقہ کے میئر کی طرف سے جماعت کو لکھا گیا کہ کونسل کو پارکنگ کے لئے مشن ہاؤس کی جگہ سے قریبا دس میٹر جگہ قیمتا در کار ہے۔اگر چہ مشن ہاؤس کی جگہ جماعتی ضروریات کو بمشکل پور کرتی تھی اور افراد جماعت کا ہی خیال تھا کہ کونسل کو یہ جگہ فروخت نہ کی جائے۔لیکن جب یہ معاملہ حضرت خلیفہ اسی الرائع کی خدمت میں برائے رہنمائی پیش ہوا تو حضور رحمہ اللہ نے فرمایا بہتر یہ ہے کہ احسان کے ساتھ خود ہی جگہ دے دیں۔اللہ اپنے فضل سے آپ کو وسعتیں عطا فرمائے۔“ ( بحوالہ خط دفتر وکالت تبشیر لندن محر ر و 16 دسمبر 1998ء) 2003ء میں حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد میں میئر علاقہ کوان کی مطلوبہ جگہ بلا معاوضہ تحفہ دیدی گئی۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قائم کردہ خلافت حقہ اسلامیہ کے فیصلے اور دعا کو قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے حیرت انگیز طور پر جماعت کو برکتوں اور وسعتوں سے نوازا۔30 جون 2003ء کو جماعت احمد یہ