سلسلہ احمدیہ — Page 525
525 راہنماؤں میں سے ایک نے بذریعہ خط رابطہ کیا اور انہوں نے یہ بتایا کہ ان کو کسی ذریعے سے جماعت احمدیہ کا وہ کتابچہ جس میں قرآن کریم کی منتخب آیات کا روسی ترجمہ ہے ان تک پہنچا اور ان کو اس کے مطالعہ سے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ اس سے بہتر روسی زبان میں کبھی قرآن کریم کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔تو یہ جوسب رابطے پیدا ہوئے ہیں یہ سارے ایک ہی مضمون کی گڑیاں ہیں۔اس لئے اگر کسی کے ذہن میں یہ وہم ہو کہ Friday the 10th کا اس دن پر اطلاق پانا کوئی اتفاقی حادثہ ہے تو اس سارے مضمون کو سننے کے بعد کوئی بہت ہی متعصب ہوگا یا طفلانہ خیال کا حامل ہوگا جو یہ اصرار کرے کہ یہ اتفاقی حادثہ تھا۔اس دن اسلامی مہینے کا انگریزی مہینے کے ساتھ انطباق، اس دن جمعہ کا دن ہونا، اس دن اس انقلابی سال کا سب سے بڑا انقلابی دن ہونا جس کے متعلق ساری دنیا نے کہا کہ یہ سال ایک غیر معمولی حیثیت کا سال ہے اور تمام دوسرے اپنے ارد گرد کے سالوں سے بہت ہی زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اور پھر اس دن کا اس سال میں سے بھی چوٹی کی طرح ابھر آنا اور غیر معمولی حیثیت اختیار کر جانا۔اور اس سے پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا یہ رویا جس کی تعبیر ظاہر ہے کہ ہجرت کا مجھے موقعہ ملے گا اور اس ہجرت کے دوران روس سے رابطہ ہوگا اور پھر ساری خلافتِ احمدیہ کی تاریخ میں ایک ہی خلیفہ کا روس کے ساتھ رابطہ ہونا، اگر یہ سارے اتفاقات ہیں تو پھر نظم وضبط کے ذریعے واقعات کا ترتیب پانا کچھ اور ہی معنی رکھتا ہو گا۔در حقیقت یہ ظاہر طور پر تقدیر ہے جس نے باقاعدہ ان واقعات کو منضبط کیا ہے اور ایک با قاعدہ ترتیب دی ہے اور تعلق جوڑے ہیں۔پس اس پس منظر کو بیان کرتے ہوئے جہاں میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر حرکت میں آچکی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے پورے ہونے کے دن قریب آرہے ہیں، وہاں ان کی ذمہ داریاں دوبارہ یاد کراتا ہوں کہ ان قوموں سے جو روس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں اسلامی رابطے قائم کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔۔۔66 (ماخوذ از خطبه جمعه فرموده 23 فروری 1990ء۔خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 113 تا 119)