سلسلہ احمدیہ — Page 494
494 سورۃ الجمعہ کی تفسیر اور Friday the 10th کی تشریح 10 مئی 1985ء کوحضرت خلیفہ امسح الرابع رحمہ اللہ نے گلاسگو ( سکاٹ لینڈ) میں جماعت کے نئے مشن ہاؤس کا افتتاح فرمایا۔خطبہ جمعہ میں حضور نے سورۃ الجمعہ کی آیات 10 تا 12 کی تلاوت کی اور پھر ان کی نہایت پُر معارف تفسیر بیان فرمائی۔اس خطبہ میں حضور رحمہ اللہ کے سال گزشتہ کے اس کشف کا بھی ذکر ہوا جو آپ نے فرانس میں دیکھا تھا اور جس کا ذکر آپ نے 28 دسمبر 1984 ء کے خطبہ میں فرمایا تھا۔Friday the 10th کے حوالہ سے حضور نے اس کی مختلف تو جیہات و تشریحات کا بھی اس خطبہ میں ذکر فرمایا۔ذیل میں اس خطبہ کے بعض حصے درج کئے جاتے ہیں۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: یوں تو ہر جمعہ بہت مبارک ہوتا ہے اور مومن کی زندگی کے لئے ایک خاص برکتوں کا دن ہے۔جمعہ کے ساتھ بہت سے فضل وابستہ ہیں۔بہت سی برکات جمعہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور آنحضرت مال کے ارشادات کے مطابق جمعہ کے دن، جمعہ کے بعد اور سورج غروب ہونے سے پہلے بعض ایسی گھڑیاں بھی آتی ہیں کہ جن کو نصیب ہو جائیں ان کے مقدر جاگ اٹھتے ہیں۔ایسی گھڑیاں بھی آتی ہیں جن میں اللہ تعالی کی طرف سے غیر معمولی طور پر دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔حدیث میں جو یہ خوشخبری دی گئی ہے اس کی بنیاد بھی سورۃ جمعہ میں موجود ہے : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ۔یہاں اللہ کے جس فضل کا ذکر ہے اسی کی تشریح آنحضرت علی نے فرمائی ہے۔اگرچہ بظاہر عام دنیا کے کاروبار اور دنیا کی منفعتیں مراد لی جاتی ہیں اور عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ فضل سے مراد تجارتوں کے منافع ہیں۔لیکن ہرگز ایسا نہیں۔وہ بھی اس آیت کا ایک منطوق ہے مگر بہت معمولی۔اس آیت کا اصل منطوق وہی ہے جس کا ذکر آنحضرت مہ کی تفسیر میں ملتا ہے کہ جمعہ کے بعد اللہ تعالی کے خاص فضلوں کا نزول ہوتا ہے۔دراصل جو فضل مراد ہیں وہی فضل اور اس کے ساتھ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ جوڑا گیا ہے کہ پھر کثرت کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرو، اس کا ذکر کرو، تاکہ تم غیر معمولی طور پر فلاح پاؤ۔بہر حال جمعہ کا دن کسی پہلو سے بھی دیکھیں بہت ہی بابرکت دن ہے اور مومن کی زندگی میں