سلسلہ احمدیہ — Page 477
477 اس پر انسپکٹر جنرل جیل نے کہا : ”ہماری تنزانیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک جماعت کی طرف سے قیدیوں کے لیے ایک گائے پیش کی گئی ہے۔" انڈونیشیا کی جماعت نے وسیع پیمانے پر جیلوں سے رابطہ کیا اور قیدیوں میں کھانا، مٹھائی اور تحائف تقسیم کیے۔تاسک ملایا کی جیل میں جا کر جماعتی وفد نے قیدیوں کو جائے نماز اور کھانے اور مٹھائی کے ڈبے تحفہ دیے اور اس تقریب کا پس منظر بتایا تو جیل کے افسران نے برملا کہا: "جماعت احمد یہ پہلی اسلامی آرگنائزیشن ہے جس نے قیدیوں سے یہ ہمدردی دکھاتی ہے۔“ آئیوری کوسٹ میں جب قیدیوں کے لیے مخالف دئیے تو جیل خانہ میں مسلمانوں کے نمائندوں نے کہا کہ: دوسرے مسلمان بھی تبلیغ کے لیے یہاں آتے ہیں لیکن کبھی کسی نے ہماری مشکلات اور ضروریات کی طرف توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔آج صرف جماعت احمدیہ نے ہی اس انداز میں سوچا ہے۔" پونچھ (کشمیر) میں جیل کے احاطہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام قیدیوں کو تحائف دیے گئے۔اس تقریب میں قیدیوں، پولیس اور جیل کے عملہ کے علاوہ بعض دیگر سر کردہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر مقامی ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ور ضلع کا کمشنر ہونے کے باوجود مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ جیل کی اونچی دیواروں کے اندر بھی جا کر دیکھوں۔لیکن آج جماعت احمدیہ کے اس پروگرام نے میرے اندر احساس پیدا کر دیا ہے۔میں جماعت احمدیہ کا ممنون ہوں۔“