سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 459 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 459

459 تاریخ انسانی میں 1989ء کے سال کی اہمیت حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 1989 ء کے سال کی غیر معمولی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بعض نہایت لطیف اور ایمان افروز پہلوؤں کا ذکر فرمایا۔چنانچہ خطبہ جمعہ فرموده 29 دسمبر 1989ء میں آپ نے فرمایا: یہ جمعہ جس کی ادائیگی کے لئے آج ہم اکٹھے ہوئے ہیں، سال 1989ء کا آخری جمعہ ہے اور دو روز تک یہ سال اختتام پذیر ہونے والا ہے۔یہ سال نہ صرف یہ کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سال ہے بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی یہ سال ایک غیر معمولی سال بن کر ابھرا ہے اور اس میں خدا تعالی کی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔آپ کو یاد ہو گا جب ہم ربوہ میں 23 مارچ کا دن خوشی کے دن کے طور پر منانا چاہتے تھے تو جماعت کے دشمنوں نے پورا زور لگایا کہ وہ ربوہ میں یا دوسری جگہوں پر بھی جماعت احمدیہ کو اس دن کی خوشی نہ منانے دیں۔لیکن خدا کی تقدیر نے ان کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ سارے ملک میں وہ دن خوشیوں کے دن کے طور پر منائیں اور 23 / تاریخ یوم پاکستان کی ایسی تاریخ ہے جسے پاکستان کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔تو بہت لمبا عرصہ پہلے جب 23 مارچ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لدھیانہ میں بیعت لی ، اس بات کو پاکستان بنانے والوں نے یا پاکستان کی راہ میں خدمتیں کرنے والوں نے تو کبھی سوچا بھی نہ ہوگا اور 23 مارچ کا دن یوم پاکستان مقرر ہونا ایک ایسا فعل ہے جس میں پاکستان کی تحریک سے تعلق رکھنے والوں کا کوئی بھی عمل دخل نہیں۔تقدیر نے یہ دن ان پر مسلط کر دیا، ان پر ٹھونس دیا۔جب تک وہ اس دن کو جماعت احمدیہ کی خوشیوں کے دن کے طور پر نہیں مناتے ، یہ دن ان پر مسلط ہو چکا ہے اور جب وہ اس کو پہچان جائیں گے تو پھر وہ اصلی خوشیوں کا دن ابھرے گا، جب 23 مارچ کو پاکستان کے قیام کا دن بھی ہوگا اور احمدیت کے قیام کا دن بھی ہوگا۔اور یہ دونوں خوشیاں مل کر عید میں بن جایا کریں گی۔اسی طرح کی ایک حکمت اس سال میں بھی پوشیدہ ہے۔اس سال میں ایسے حیرت انگیز تغیرات بر پا ہوئے ہیں کہ دنیا کے دانشوروں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔یورپ میں جو کچھ