سلسلہ احمدیہ — Page 460
460 ہوا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے اور اسی طرح دنیا کے دیگر بعض ممالک میں تبدیلیوں کے جو آثار ظاہر ہور ہے ہیں۔یہ وہ سب تبدیلیاں ایسی ہیں جن میں سیاستدانوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ان کے لئے یورپ میں ہونے والی عظیم تبدیلیاں اور اشترا کی ممالک میں ہونے والے انقلابات اسی طرح تعجب انگیز تھے جس طرح باقی دنیا کے لئے تعجب انگیز تھے۔ان کی کوششوں کا جہاں تک دخل ہے وہ کوششیں تو چین میں کی گئی تھیں اور انسانی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور ساری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سیاست دانوں نے مل کر چین میں جو انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی تھی اس میں وہ کلیہ ناکام رہے۔وہاں انقلابات ہوئے جہاں محض خدا کی تقدیر کو دخل تھا۔جہاں انسانی کوششوں کا کوئی بھی ہاتھ نہیں تھا۔اس لئے ابھی سے دانشور یہ لکھنے لگے ہیں اور مختلف مواقع پر یہ بیان دینے لگے ہیں کہ یہ سال جو 1989ء کا سال ہے، یہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا بلند اور ممتاز سال بن کر ابھرا ہے کہ اسے قیامت تک مؤرخ بھلا نہیں سکے گا۔ایک غیر معمولی شان ہے اس سال میں اور آئندہ کے لئے بنیادیں ڈالنے والا سال ہے۔پس اس کی بلندی محض اپنی ذات کی بلندی نہیں بلکہ آئندہ دنیا کی سر بلندی کے لئے اس سال میں بنیادیں قائم کی گئی ہیں۔اور یہ وہی سال ہے جس کو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا عالمی جشن تشکر قرار دیا۔آپ نے فرمایا: اللہ تقدیر بہا رہا ہے اور تمام دنیا کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کے سال کو کبھی نہ بھلا سکے اور ہمیشہ اس سال کو سنہری حروف سے لکھتی چلی جائے۔پس خدا کی بہت سی تقدیریں مخفی طور پر ایسے کام کر رہی ہوتی ہیں کہ سطح پر ان کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔اچانک جس طرح سمندروں میں جزیرے ابھر آتے ہیں اس طرح جب وہ خدا کی تقدیر آخری صورت میں ابھرتی ہے تو دنیا حیرت سے اس کو دیکھنے لگتی ہے۔پس ان دونوں باتوں میں حکمت ہے۔یہ دونوں باتیں اتفاقی نہیں ہیں۔" آپ نے فرمایا: 23 مارچ کے دن کو پاکستان کی خوشیوں کا دن قرار دے دینا اور صد سالہ جشن تفکر کے سال کو تمام عالم کی خوشیوں کا سال قرار دے دینا اور اس سال میں حیرت انگیز تبدیلیاں پیدا کرنا اور