سلسلہ احمدیہ — Page 455
455 افراد جماعت احمدیہ کے نام حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ ک جماعت کی دوسری صدی کے آغاز پر پہلا پیغام جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے پہلے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے عالمگیر جماعت احمدیہ کے افراد کو جو پہلا پیغام دیا وہ یہ تھا کہ گزشتہ صدی میں اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والے عظیم اور ان گنت احسانوں کو ہمیشہ یادرکھیں اور احسان مندی کے جذبات کو پیدا کریں۔آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: گزشتہ صدی میں ہم پر اتنے احسانات کی بارشیں نازل فرمائیں، اس کثرت کے ساتھ خدا کی رحمتوں کے نشان ہم نے نازل ہوتے دیکھے، اتنے عظیم خطرات سے خدا تعالیٰ نے جماعت کو محفوظ اس طرح نکالا جس طرح محبت کرنے والے دو بازؤں میں سمیٹ لیا گیا ہو اور بسا اوقات ایسے سخت وقت آئے ، ایسے کڑے وقت آئے کہ خطرہ تھا کہ بعض علاقوں سے جماعت کی صف لپیٹ دی جائے گی مگر خدا تعالی کی غیر معمولی قدرت نے حیرت انگیز جلوے دیکھائے۔پس ان سب امور کی طرف جب ہم نگاہ دوڑاتے ہیں تو شکر کے جتنے بھی جذبات دل میں پیدا ہوتے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ پیاس نہیں بجھی۔۔۔۔۔۔۔پس اس صدی کو شکر کی صدی بنانا ہے اور خدا تعالیٰ کے احسانات کو یا در کھنے اور احسانات کو پہچانے کی صدی بناتا ہے۔“ فرمايا: ہم جب کہتے ہیں کہ ان گنت احسانات ہیں۔بارش کی طرح اس کے فضل نازل ہوتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ ہم درست کہہ رہے ہیں اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ایک قطرے کا مبالغہ بھی اس میں نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشوں نے ایک سوسال تک جماعت احمدیہ پر ہر قسم کے فضل نازل فرمائے۔ع اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ میں قطرہ تھا اس کے فضل نے دریا بنا دیا اور ایک خاک کا ذرہ تھا جسے خدا نے ثریا بنا دیا ہے۔پس آج جو ایک کروڑ احمدی اس دنیا