سلسلہ احمدیہ — Page 443
443 عہد خلافت رابعہ میں 1982ء سے صد سالہ جشن تشکر 23 مارچ 1989 ء تک اور اس کے بعد بھی جوں جوں جماعت ترقی کرتی رہی مخالفین کی شر انگیزیاں،فتنہ وفساد اور حاسدانہ کارروائیاں بھی بڑھتی رہیں۔الـ ان کی پوری کوشش رہی کہ صد سالہ جوہلی کے جشن کو ناکام بنایا جائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے مختلف مواقع پر اس پہلو سے جماعت کے خلاف عالمی سازشوں سے نہ صرف پردہ اٹھایا بلکہ آسمانی رہنمائی اور خدائی تائید کے ساتھ ان سب سازشوں کو نہایت جرات کے ساتھ اور حکمت بالغہ کے ساتھ نا کام کیا اور احمدیت کی کشتی کو ان تمام طوفانوں سے کامیابی سے نکال کر اس کی منزل کی طرف رواں دواں رکھا۔صد سالہ جوہلی سے قریباً دو سال قبل 30 جنوری 1987ء کو خطبہ جمعہ میں دشمنوں کی شرارتوں اور بدار دوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: صد سالہ جوبلی کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ صرف دو سال باقی رہ گئے ہیں اور صد سالہ جو بلی در اصل ہمارے دشمنوں کا اس وقت وہ خاص نشانہ بنی ہوتی ہے ان کی نفرتوں کا، ان کے حسد کا اور وہ ہر طرح سے پورا زور لگا رہے ہیں کہ صد سالہ جو ہبلی کے جشن کو ناکام بنا دینا ہے۔ربوہ کے خلاف جو سازشیں ہوئیں، جماعت احمدیہ کے خلاف جو پاکستان میں سازشیں ہوئیں، جن کا سب سے بڑا نقطہ ربوہ پہ جا کے ختم ہوتا تھا کہ ربوہ کی مرکزی حیثیت کو ختم کیا جائے ، ربوہ کی شان نوٹ لی جائے ، ربوہ میں ہر قسم کے جلسے بند کر دئیے جائیں کیونکہ بالآخر بڑی تیزی کے ساتھ جماعت صد سالہ جوبلی کے جشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس مقام نے وہ ساری دنیا کا مرکز اور مطمح نظر ین جاتا ہے۔یہاں اگر کوئی شاندار سطح پر سو سالہ جشن منایا گیا تو اس کے نتیجے میں سارے پاکستان میں نہیں ساری دنیا میں یہ بات لازمتا مستحکم ہو جائے گی کہ اب اس جماعت کو دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔اس درجہ کمال کو پہنچ چکی ہے، اس بڑے مرتبے کو پہنچ چکی ہے، اتنی قوت حاصل کر چکی ہے کہ اب اس جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ وہ خطرہ تھا جس کے پیش نظر ساری سازشوں نے جنم لیا اور اسی لئے کھیلیں بند کیں پہلے، درجہ بدرجہ دشمن نے اپنی سکیم کو کھولا ہے۔کھیلیں بند کیں، چھوٹے چھوٹے اجتماعات بند کئے، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بند کیا، پھر گاڑیاں جو