سلسلہ احمدیہ — Page 412
412 ( نعوذ باللہ ) مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباہلہ کے نتیجہ میں فوت ہوئے تھے اور ترنگ میں آکر اسی اخبار کے ذریعہ مولانا میر پوری نے حضرت امام جماعت احمدیہ کو درج ذیل الفاظ میں مباہلہ کا چیلنج بھی دے دیا۔دو میں مرزا طاہر احد کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ اس بات پر مباہلہ کریں کہ مرزا غلام احمد سچا نبی تھا یا جھوٹا، ہمارا دعویٰ اور ایمان ہے کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔۔۔ان کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔وہ حضرات جو بیچارے کسی لالچ و طمع کی بناء پر قادیانیت قبول کر لیتے ہیں انہیں قربانی کا بکر ابنانے کی بجائے مرزا صاحب سامنے آئیں تا کہ ایک ہی بار فیصلہ ہو جائے۔“ روزنامه جنگ لندن 7 / مارچ 1985ء) 10 رجون 1988ء کو جب حضرت امام جماعت احمدیہ نے تمام مگھرین اور مکڈ بین کو مباہلہ کا چیلنج دیا تو اتمام حجت کی غرض سے اس کی ایک کاپی بذریعہ ریکارڈ ڈ ڈیلوری 15 جولائی 1988ء کو مولوی محمود احمد میر پوری صاحب کو بھی بھیجوا دی گئی۔لیکن اپنے اسلاف کی طرح انہوں نے اسے قبول کرنے سے گریز کیا اور محبت بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے رسالہ صراط مستقیم میں لکھا : جہاں تک مباہلہ کا تعلق ہے تو وہ تو نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہی دعوت دے سکتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب اللہ کی طرف سے اُسے اس امر کا حکم ہو۔“ مزید لکھا کہ : اس لئے اب مرزا طاہر احمد کو مرزا صاحب کی نمائندگی کرنے یا فریق بننے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ اپنے اعلان دعا کے انجام سے دو چار ہو چکا ہے۔“ ( صراط مستقیم جولائی 1988 ء) یہ تو اب مولوی محمود میر پوری صاحب کا کوئی معتقد ہی بتا سکتا ہے کہ 1985ء میں جب انہوں نے امام جماعت احمدیہ کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا تو کیا وہ نبوت کے مقام پر فائز تھے؟ اور انہوں نے خدائی حکم سے ایسا کیا تھا یا جھوٹ بولا تھا؟