سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 400 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 400

400 حالات جس طرف اشارہ کر رہے تھے وہاں تک ہمارے ظن کا تعلق تھا۔اندازہ ہو رہا تھا کہ بہت سے ایسے مکڈ بین ہیں جو شرارت سے باز نہیں آرہے بلکہ تسخر اور استہزاء میں اور ظلم وستم میں بڑھ رہے ہیں۔چنانچہ سارے پاکستان میں بار بار یہ کوشش کی گئی ہے علماء کی طرف سے کہ اس میلہ کو انتہال کی بجائے اشتعال کا ذریعہ بنایا جائے اور کثرت کے ساتھ احمدیوں کے خلاف عوام الناس کے جذبات مشتعل کر کے انہیں ان کو مارنے پیٹے قتل کرنے، ٹوٹنے اور ان کے گھر جلانے پر آمادہ کیا جائے۔وہ سمجھتے ہیں اس طرح ہم ایک اپنی تقدیر ظاہر کریں گے۔ہم اپنے ہاتھوں سے ان کو سزا دے سکتے ہیں اور ہم ان کو بتائیں گے کہ خدا کون ہے۔چنانچہ اس عزم کے ساتھ وہ اُٹھے ہیں کہ دنیا سے خدا کی خدائی کی بجائے اپنی خدائی منوائیں اور یہ بتائیں کہ ہم میں طاقت ہے ان کو مٹانے کی۔اور یہی انہوں نے مباہلے کا مطلب سمجھا ہے۔اس لیے اگر چہ بارہا کثرت کے ساتھ احمدیوں کی تکلیفوں کی خبر میں مل رہی ہیں۔لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ یہ مقابلہ خدا سے ہے ان لوگوں کا اور اس میں جماعت احمد یہ نہ کچھ کرسکتی ہے نہ اس کے کرنے کا کوئی محل اور مقام ہے، صرف انتظار ہے۔خدا کی تقدیر لازما ان کو پکڑے گی اور لازمنا ان کو سزا دے گی جوان شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ معصوم احمدی جن کو اب سزا دی جارہی ہے ان کو صرف اس جرم کی سزادی جارہی ہے کہ ہم خدا کی طرف اپنے مقدمے کو لے جاتے ہیں۔“ ( خطبات طاہر شائع کردہ طاہر فاؤنڈیشن ربوہ جلد 7 صفحہ 555553) ضیاء نمرودیت کی آگ میں آفریدا کے مقدس خلیفہ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات حرف بہ حرف پوری ہوئی اور جنرل محمد ضیاء الحق جس نے احمدیت کو کینسر قرار دے کر مٹا دینے کی دھمکی دی تھی 17 اگست 1988ء کو 130-C طیارہ میں حادثہ کا شکار ہو گیا اور خدائے ذوالجلال نے اس کے پر نچے اڑا دیے اور ان جرنیلوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جو اس کے دست و بازو بنے ہوئے تھے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق صدر ضیاء الحق کے تابوت میں مرحوم صدر کے صرف جبڑے کی ہڈی تھی کیونکہ ان کی لاش میں صرف یہی ایک جز د تھا جس کی شناخت کی جاسکی۔روزنامه ملت لندن 27، 28، اگست 1988 ء )