سلسلہ احمدیہ — Page 399
399 جاری ہو بھی گیا ہے کہ نہیں اور ایک معصوم احمدی کیسے تکلیف محسوس کر رہا ہے۔جب تک یہ پتہ نہ چلے، ان کو لذت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ایسے شخص کا زبان سے چیلنج قبول کرناضروری نہیں ہوا کرتا۔اس کا اپنے ظلم وستم میں اسی طرح جاری رہنا اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ اس نے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔اس لئے اس پہلو سے بھی وقت بتائے گا کہ کس حد تک ان کو جرات ہے خدا تعالی کے مقابلے کی اور انصاف کا خون کرنے کی۔“ ( خطبات طاہر شائع کرد و طا ہر فاؤنڈیشن ربوہ جلد 7 صفحہ 461 462) ازاں بعد حضور نے قریبا ڈیڑھ ماہ تک انہیں مہلت دی کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کر کے جبر و تشدد سے دست کش ہو جائیں لیکن ان کے ظالمانہ رویہ میں ذرہ برابر تبد یلی نہ آئی۔جس پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے دل میں القائے ربانی کے تحت ایک زبردست جوش پیدا ہوا اور حضور نے 12 اگست 1988ء کے خطبہ جمعہ میں اپنی ایک انداری رویا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: جس قوم کو آج ہم مخاطب کر رہے ہیں، جس کو ہم نے مباہلہ کی دعوت دی ہے بدقسمتی سے ان کے مقدر میں خدا تعالی کی ناراضگی کا دن دیکھنا ہے۔“ آپ نے فرمایا: یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا ایک قسم کا مقدر بن گئی ہے اور لازمنا ان میں سے ایک طبقہ، میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ سب نہیں، ایک طبقہ عبرت کا نشان بنے گا۔“ چنانچہ آپ نے نہایت پر جلال لب ولہجہ میں انہیں آخری بار انتباہ کرتے ہوئے فرمایا: اس موقع پر جبکہ مباہلہ کی دعوت غیروں کو دی گئی ہے اس وجہ سے خصوصیت سے کہ یہ استہزاء میں بڑھ رہے ہیں اور اپنے گزشتہ کردار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر رہے۔استہزاء میں بھی پڑھ رہے ہیں، ظلم میں بھی بڑھ رہے ہیں اور حکومت کا جہاں تک تعلق ہے وہ معصوم احمدیوں پر قانونی حربے استعمال کر کے طرح طرح کے ستم ڈھارہی ہے۔اور آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے آغاز ہی میں حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آپ اگر اپنی شان کے خلاف بھی سمجھتے ہوں چیلنج کو قبول کرنا، اگر آپ زیادتیوں سے باز نہ آئے اور ظلم وستم کی یہ راہ نہ چھوڑی تو جہاں تک میں سمجھتا ہوں خدا کی تقدیر اسے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے مترادف بنائے گی اور آپ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔تو یہ