سلسلہ احمدیہ — Page 398
398 جنرل ضیاء، شریعت کورٹ کے ججوں اور سب مکفرین اور مکڈ بین کو دعوت مباہلہ کے لئے للکارا۔جنرل ضیاء الحق کو مباہلہ کا چیلنج 11 جولائی کو ڈاک کے ذریعہ بھجوایا گیا۔جنرل ضیاء کو آخری تشبیہ سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز اس بات سے خوشی نہیں تھی کہ جنرل ضیاء اپنے مظالم کی پاداش میں خدا تعالی کی قہری تجلی کا نشانہ بنے۔یہی وجہ ہے کہ حضور نے انہیں بار بار تنبیہ فرمائی نجات کے رستے بتائے اور یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اگر دنیوی وجاہت کھل کر تو بہ کرنے میں مانع ہے تو کم از کم ظلم سے ہاتھ روک لیں اور خاموش رہیں۔ہم یہ سمجھ لیں گے کہ آپ نے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ظلم سے باز آ گئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی یکم جولائی 1988ء کے خطبہ جمعہ میں انہیں بتایا کہ چونکہ وہ ائمہ انگیر کے سردار ہیں اور معصوم احمد یوں پر ظلم کر کے لذت محسوس کرتے ہیں۔اس لئے خواہ چیلنج قبول کریں یا نہ کریں اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو ان کا یہ فعل چیلنج قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔آپ نے فرمایا:۔جہاں تک صدر پاکستان ضیاء صاحب کا تعلق ہے ان کے متعلق ہمیں ابھی ان کو کچھ وقت دینا چاہئے۔ابھی ابھی انہوں نے کچھ سیاسی کارروائیاں کی ہیں اور اگر چہ وہ اسلام کے نام پر کی ہیں مگر بہر حال سیاسی کارروائیاں ہیں اور ان میں وہ مصروف بہت ہیں۔ابھی تک ان کو یہ بھی قطعی طور پر علم نہیں کہ آئندہ چند روز میں کیا واقعات رونما ہو جائیں گے۔اس لئے ہو سکتا ہے وہ ترو و محسوس کرتے ہوں کہ یہ نہ ہو کہ ادھر میں چیلنج قبول کروں اُدھر کچھ اور واقعہ ہو جائے۔اس لئے جب تک ان کی کرسی مضبوط نہ ہو جائے ، جب تک وہ اپنے منصوبوں پر کار بند نہ ہو جائیں اور محسوس نہ کریں کہ ہاں اب وہ اس مقام پہ پہنچ گئے ہیں جہاں جس کو چاہیں چیلنج دیں، جس قسم کی عقوبت سے ڈرایا جائے اس کو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے قبول کریں۔اس مرتبے و مقام تک ابھی وہ پہنچے نہیں ہیں۔اس لئے ہم انتظار کرتے ہیں کہ خدا کی تقدیر دیکھیں کیا ظاہر کرے۔یکن چیلنج قبول کریں یانہ کریں چونکہ تمام ائمہ انگر ین کے امام ہیں اور تمام اذیت دینے والوں میں سب سے زیادہ ذمہ داری اس ایک شخص پر عائد ہوتی ہے۔جنہوں نے معصوم احمدیوں پر ظلم کئے ہیں اور اس ظلم کے پیچھے پڑ کر جھانکنے کی کوشش کی ہے کہ جوئیں نے حکم جاری کیا تھا وہ