سلسلہ احمدیہ — Page 393
393 خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ان کے اخبار و رسائل اور کتب ضبط کر لی جائیں گی۔ڈان کراچی، نوائے وقت لاہور، جنگ لاہور ، مشرق لاہور 15 را پریل 1984ء) 26 را پریل 1984ء کو جنرل ضیاء نے جماعت احمدیہ کے خلاف بدنام زمانہ صدارتی آرڈینٹس نمبر 20 نافذ کردیا جس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ضیاء حکومت کی وسیع اور خطرناک سازش کو پاش پاش کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الرابع خدا تعالیٰ کے فرشتوں کے جلو میں بخیریت 30 اپریل 1984ء کو انگلستان پہنچ گئے۔اس رُسوائے عالم آرڈینینس کے بعد جنرل ضیاء کے دور میں پاکستان کے احمدیوں پر قافیہ حیات مزید تنگ کر دیا گیا۔اذانیں بند کر دی گئیں۔کلمہ طیبہ پڑھنے، لکھنے اور اس کے بیج اپنے سینوں پر آویزاں کرنے کی پاداش میں بہت سے مظلوم احمدی جیلوں میں ٹھونس دیئے گئے۔جماعت کی متعدد کتابوں پر پابندی لگادی گئی۔ضیاء الاسلام پریس ربوہ کو سر بمہر کر دیا گیا۔روزنامہ الفضل کو بند کر دیا گیا۔جلسہ سالانہ اور دوسرے اجتماعات بھی ختم کر دیے گئے۔پاسپورٹ میں مذہب کے ناد کا اضافہ کیا گیا۔جنرل ضیاء کی ہرزہ سرائی اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع " کی زبردست پیشگوئی جنرل ضیاء نے 8 دسمبر 1984ء کو قومی سیرت کانفرنس میں جماعت احمدیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ” میں ان تمام لوگوں کو جو غلط راستے پر ہمیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ کلمہ پڑھیں۔اسلام کی صفوں میں شامل ہو جائیں۔ختم نبوت پر ایمان لے آئیں۔اور قرآن پاک کو اللہ تعالی کی آخری کتاب سمجھیں۔اگر یہ لوگ ایسا کرلیں تو میں انہیں سینے سے لگانے کے لیے تیار ہوں“۔نیز کہا ملک میں اقلیتیں محفوظ ہیں لیکن مشرکین کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔“ ( روزنامہ مشرقی ایوننگ اسپیشل کراچی 8 دسمبر 1984ء) سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اس کے جواب میں 14 دسمبر 1984ء کومسجد مبارک ہالینڈ میں ایک باطل شکن اور جلالی خطبہ ارشاد فرمایا اور بتایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمدیہ پر یہ الزام کہ ( نعوذ باللہ من ذالک) وہ گستاخ رسول ہیں اس سے زیادہ جھوٹا، بہیمانہ اور ظالمانہ الزام اور کوئی نہیں لگایا جاسکتا۔نیز یہ پرشوکت پیشگوئی فرمائی کہ