سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 390 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 390

390 بھیڑوں کی کھالوں میں لیٹے ، کتنے گرگ ملے رستے میں مقتولوں کے بھیس میں دیکھو، کیسے کیسے قاتل آئے آخر شیر خدا نے بھر کر، ہر بن باسی کو للکارا کوئی مُبارز ہو تو نکلے، سامنے کوئی مباہل آئے ہمت کس کو تھی کہ اٹھتا، کس کا دل گردہ تھا نکلتا کس کا پتا تھا کہ اٹھ کر، مرد حق کے مقابل آئے آخر طاہر سچا نکلا، آخر ملاں جھوٹا نکلا جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلِ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ملاں کیا روپوش ہوا اک تھی بھاگوں چھینکا ٹوٹا اپنے مریدوں کی آنکھوں میں جھونکی دُھول اور پیسہ لوٹا قریہ قریہ فساد ہوئے تب، فتنہ گر آزاد ہوئے سب احمدیوں کو بستی بستی پکڑا دھکڑا مارا کوٹا کر ڈالیں مسمار مساجد ٹوٹ لئے کتنے ہی معابد جن کو پلید کہا کرتے تھے، لے بھاگے سب اُن کا نجوٹھا کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چڑھتی ، وہ دن آنا تھا کہ پھٹتی وہ دن آیا اور فریب کا، چوراہے میں بھانڈا پھوٹا کہتے ہیں پولیس نے آخر، کھود پہاڑ نکالا چوہا جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلِ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جاؤں ہر دم تیرے وارے، میرے جانی میرے پیارے مو نے اپنے کرم سے میرے، خود ہی کام بناتے سارے پھر اک بار گڑھے میں تو نے، سب دشمن چن چن کر اتارے