سلسلہ احمدیہ — Page 387
387۔مرزا مظفر احمد صاحب پر اسلام آباد میں قاتلانہ حملہ کیا تھا۔اس قاتلانہ حملہ کے نتیجہ میں یہ صاحب اچانک مولانا بن گئے اور مولانا بھی اس پایہ کے کہ تحفظ ختم نبوت کی مجلس میں اور مجلس احرار میں ان کو بے بدل عاشق رسول کے خطاب دیئے گئے۔اس شخص کے متعلق مخالف احمدیت ملاؤں نے حلف اٹھا اٹھا کر اور واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیے ہوئے تھے کہ احمدیوں کی طرف سے نہ صرف یہ کہ اس کو اغوا کیا گیا ہے بلکہ اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔یہاں تک اعلان تھے کہ قصر خلافت ( ربوہ) کی عمارت کو اکھاڑیں اس کی زمین میں سے اس مولوی کی لاش نکلے گی۔اور یہ اعلان کیسے گئے تھے کہ اگر ہم جھوٹے ثابت ہوں تو ہمیں برسر عام پھانسی دی جائے، کوڑے لگائے جائیں، گولی سے اڑا دیا جائے۔(ملاحظہ ہوں اخبار جنگ لاہور 26 / فروری 1983 ء بیان مولانا عبد القادر روپڑی ، لولاک 20 رمئی 1983 ، صفحہ 5 ، لولاک 27 رمئی 1983ء ، جسارت 11 جولائی 1984ء، ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل جلد 4 شماره 31 صفحہ 15 ، امروز 12 / فروری 1986ء، ہفت روزہ چٹان 19 / نومبر 1984ء ، لولاک 14 جولائی 1983ء صفحہ 14 ، وفاق لاہور 25 نومبر 1984ء، نوائے وقت لاہور 18 فروری 1984ء) اسلم قریشی کی روپوشی کے حوالہ سے اخبارات میں شائع ہونے والی مختلف خبروں کے تجزیہ سے یہ بات خوب کھل جاتی ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سازش تھی اور کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔اس حوالہ سے عوام میں جماعت کے خلاف خوب اشتعال پھیلا یا گیا اور احمدیوں کو طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔اس ساری مہم میں اُس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی پشت پنا ہی ملاؤں کو حاصل تھی۔چنانچہ 8 رمئی 1984ء کے روزنامہ نوائے وقت میں حکومت پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی طرف منسوب یہ خبر شائع ہوئی کہ اسلم قریشی کی گمشدگی کا معاملہ میرے لئے باعث تشویش ہے۔“ اسی طرح اخبارات میں یہ بھی ذکر ہوا کہ جنرل ضیاء نے پولیس کو جلد سے جلد اور کم سے کم وقت میں اپنی تحقیقات فائنلائز کرنے کی تاکید کی ہے۔22 / فروری 1985ء کو یہ اعلان اخبار میں شائع ہوا کہ صدر پاکستان نے سیالکوٹ کے مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کا معاملہ حل نہ کرنے پر سخت نوٹس لیا اور پولیس کو ڈرایا دھمکایا ہے کہ تم کیوں اس معمہ کو جلد