سلسلہ احمدیہ — Page 381
381 نہیں۔صرف وضاحت کے ساتھ دنیا کے علم میں لا کر یہ دعا کرنی ضروری ہے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو۔تا کہ یہ محض انفرادی بددعانہ رہے بلکہ اس کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے نشان بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کا موجب بنیں۔اس لئے امام جماعت احمدیہ نے جو پیشکش کی تھی، اس میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی اور وہ خود اپنی جماعت کے ساتھ 10 جون 1988ء بروز جمعتہ المبارک جھوٹے پر لعنت ڈال کر مباہلہ کا ایک فریق پہلے ہی بن چکے ہیں۔پس اگر آپ میں اخلاقی اور ایمانی جرات ہے تو آپ بھی صاف صاف اعلان کریں کہ آپ کو یہ دعوت منظور ہے یا نہیں؟ اگر منظور ہے تو پھر وہ التزامات دہرائیں جو آپ لوگ مدت سے جماعت احمدیہ پر لگاتے چلے آرہے ہیں اور جن کا ذکر مباہلہ کے چینج میں کیا گیا ہے اور لعنتہ اللہ علی الکاذ مبین کہ کر مباہلہ کا فریق بن جائیں۔لیکن ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ تقویٰ اختیار کریں اور استغفار سے کام لیں اور خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ امام کے خلاف بے با کی چھوڑ دیں تا کہ آپ خدا کی ناراضگی سے بچیں۔اور اب تک خدا تعالیٰ نے جو تائیدی نشان ظاہر فرماتے ہیں، ان سے عبرت حاصل کریں۔مباہلہ کالب لباب تو یہ ہے کہ دوسرے فریق کا جھوٹ دنیا پر ظاہر ہو جائے۔اگر آپ نے بقیہ امور کے متعلق ضد کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہو تو بھی مخالف علماء کے اس جھوٹ کا آپ کیا عذر پیش کریں گے جس کا مباہلہ میں ذکر ہے۔اور وہ جھوٹ سب دنیا کے سامنے طشت از بام ہو چکا ہے۔یعنی جماعت احمدیہ اور امام جماعت احمدیہ پر اسلم قریشی کے قتل کا الزام۔اگر آپ اس تنبیہ کے باوجود بھی دھوکہ دہی سے باز نہ آئے اور عوام پر یہ تاثر ڈالا کہ آپ میلہ کا چیلنج دے رہے ہیں اور گو یا ہم راہ فرار اختیار کر رہے ہیں تو ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے اس فعل کو مسلہ کی قبولیت کے مترادف سمجھتے ہوئے آپ کے متعلق اپنا قہری نشان ظاہر فرمائے۔خاکسار: رشید احمد چوہدری پریس سیکرٹری جماعت احمدیہ - لندن ( بحوالہ ہفت روزہ بدر قادیان - 17 نومبر 1988 ، صفحہ 11)