سلسلہ احمدیہ — Page 377
377 ابتہال کی طرف بلا کر انہیں اشتعال دلایا ہے۔حالانکہ مباہلہ تو معاملہ کو خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے کر جانے کا نام ہے اور اس کا تعلق دنیا کی عدالت سے ہے ہی نہیں۔بعض اہل سنت علماء کا یہ موقف تھا کہ غیر مسلم سے مباہلہ نہیں ہو سکتا یعنی ان معنوں میں کہ وہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم کوحق نہیں ہے کہ مباہلہ کا چیلنج دے۔اور چونکہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں اس لئے وہ اہلہ کا چیلنج قبول نہیں کر سکتے۔بعض نے یہ کہا کہ مباہلہ کا چیلنج ہم اس لیے قبول نہیں کر سکتے کہ قرآن کریم سے نص صریح سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔تو چونکہ ختم نبوت کا ہمارا عقیدہ قرآن کی نص صریح سے ثابت شدہ ہے اس لیے اس پر مباہلہ نہیں ہوسکتا۔اب جہالت کی حد ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے بڑھ کر خاتمیت ثابت ہے۔قرآن کریم نے تو مباہلہ کا چیلنج ہی اس بات پر دیا تھا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا مخالف سچا ہے اور وہ ان کے نزدیک نص صریح سے ثابت نہیں تھا۔نعوذ باللہ من ذالک۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی کہ وہ چیلنج دے دیں۔کیونکہ آپ کی صداقت خدانخواستہ نعوذ باللہ من ذالک چونکہ مہم تھی اس لیے مباہلہ کے لئے گویا اُس کی وضاحت چاہی گئی تھی۔پھر انگلستان میں بعض علماء نے اس بات کا اظہار کیا کہ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے۔آپ بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کے آجائیں ہم بھی آجاتے ہیں اور پھر ہم دریائے ٹیمز میں چھلانگ لگا ئیں گے اور جو پار اُتر جائے گا وہ سچا اور جوڈوب جائے گا وہ جھوٹا۔معاند مولویوں کے ایسے بیانات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ دین کے معاملے میں ہر گز سنجیدہ نہیں۔وہ تمسخر سے یا گالیاں دے کر یا شور مچا کر سمجھتے ہیں کہ اپنا مقدمہ جیت جائیں گے لیکن فی الحقیقت خدا کی عدالت میں مقدمہ لے جانا ہی نہیں چاہتے۔ان کے بیانات کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ آخر دنیا کے فیصلے کی طرف کو ٹتے ہیں یا دنیاوی مقابلوں کے ذریعہ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ایک صاحب نے پاکستان سے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے یہ پیغام بھیجا کہ دنیا کی کسی چوٹی کی