سلسلہ احمدیہ — Page 16
16 نصرت الہی تیرے شامل ہوگی اور خدا دشمنوں کو مغلوب اور شرمندہ کرے گا۔“ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد نمبر 8 صفحہ 5453) جماعت احمدیہ کے آغاز سے لے کر آج تک مخالفین احمدیت کی طرف سے تمسخر اور استہزاء ، کذب و افتراء اور ظلم و ستم کی ساری تاریخ حضور علیہ السلام کے مذکورہ بالا ارشاد کی حقانیت پر گواہ ہے۔جماعت کی مخالفت کی جو لہریں اٹھتی رہیں کبھی کبھی ان میں غیر معمولی شدت پیدا ہو جاتی رہی ہے۔اور انفرادی یا مقامی طور پر ہی نہیں بلکہ مخالفین کی اجتماعی اور منظم سازشوں کے نتیجہ میں ظلم و ستم کی کارروائیاں بہت بڑھ جاتی رہیں اور بعض اوقات جب حکومت اور اس کی انتظامیہ بھی اس سازش کا حصہ بنی اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر اپنے خیال میں اسے نابود کرنے کے منصوبے بنائے تو اس خدائے بزرگ و برتر نے جو صبر کرنے والوں اور تقویٰ اور راستی سے کام لینے والوں کو کبھی مخذول اور بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، اپنی قدرت کے زبر دست نشانوں سے ان کی مدد فرمائی اور انجام کار انہیں فتح اور کامیابی سے نوازا اور ان کے دشمنوں کو مغلوب، رُسوا اور شرمندہ کیا۔خلافت رابعہ کے آغاز سے ہی مخالفین احمدیت کی طرف سے جماعت کے خلاف خصوصیت سے پاکستان میں منظم سازشوں اور شرارتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے بعض رؤیا کی بنا پر اور خداداد فراست اور بعض اطلاعات و شواہد کی بنا پر اس بارہ میں افراد جماعت کو قرآن مجید اور تاریخ انبیاء کی روشنی میں ہر قسم کے حالات کا صبر اور دعاؤں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ شر پسند ملاؤں اور پاکستان کی حکومت کی ملی بھگت اور ان کی فتنہ انگیزیاں نمایاں اور بھیانک ہو کر ظاہر ہوتی رہیں۔1983ء میں اُس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اسلم قریشی نامی ایک شخص کی (مرحومہ) گمشدگی کو بنیاد بنا کر پاکستان بھر میں احمدیت کی مخالفت کی ایک نئی تحریک کی بنیاد رکھی۔اور اس تحریک کو حکومتی سرپرستی میں آگے بڑھایا۔اور احمدیوں کو جنہیں 1974ء میں آئینی اور قانونی اغراض کے لیے غیر مسلم قرار دیا جا چکا تھا اب اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور اسلامی شعائر ، اسلامی اصطلاحات وغیرہ کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کرنے، انہیں کلیدی سرکاری عہدوں