سلسلہ احمدیہ — Page 360
360 ہو چکی ہو کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور بالا رادہ تکذیب سے باز نہ آئے اس مکذب کو دعوت مباہلہ ہے اور اس مباہلہ میں دو فریق ہوتے ہیں۔۔" مباہلہ میں ایک طرف سے خدا کی طرف سے ہونے کے دعویدار کا ہونا ضروری ہے اور دوسری طرف اُس دعویدار کی تکذیب کرنے والوں کا ہونا ضروری ہے۔قرآن کریم میں مباہلہ کا یہی مفہوم ہے۔اس کے سوا اور کوئی مفہوم نہیں ہے۔۔۔65 قرآن کریم نے جو مباہلہ کا نقشہ کھینچا ہے اس نقشہ کی رو سے جب بھی حالات ملتے جلتے دکھائی دیں اُس وقت مباہلہ کا اختیار ہو جاتا ہے تو دونوں طرف را ہنما ہونے چاہئیں۔معز را ہنما ہونے چاہئیں جن کے پیچھے پوری قوم ہو اور معاملہ کسی خدا کی طرف سے ظاہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کی سچائی کا معاملہ ہو اور ایک قوم اسے جھٹلا رہی ہو اور دوسری اس کو ماننے والی اُس کی تائید میں دل و جان کے نذرانے پیش کرنے کے لئے حاضر ہورہی ہو اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہو۔“ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: " آج کل کے اس دور میں جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کا اس دور میں جھنڈا اٹھا لیا ہے اور پاکستان کے بد نصیب سر براہ نے جو پہلے ڈکٹیٹر کے طور پر ظاہر ہوئے پھر اس کے بعد صدر کا چولہ پہنا۔۔۔وہ اس وقت حضرت مسیح موعود کی تکذیب کے سب سے بڑے طہر دار ہیں اور ان کے ساتھ بعض علماء نے جو حاشیہ بردار ہیں انہوں نے بھی بد زبانی اور بد کلامی کی حد کر دی ہے۔۔۔ہ میں نے کئی طریق سے اس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنی حیثیت اور اپنے مقام کو سمجھو۔بے وجہ ایسے معاملات میں دخل نہ دو جن کے نتیجہ میں تم خود اپنی ہلاکت کو دعوت دینے والے ثابت ہو گئے اور ادب کی زبان اختیار کرو۔اگر تمہیں ایک دعویدار کے دعوی کی سچائی پر ایمان نہیں ہے تو خاموشی اختیار کرو۔اور یا انکار کرنا ہے تو انکار میں بھی ادب کا پہلو ہاتھ سے نہ جانے دو۔“ آپ نے فرمایا: