سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 359 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 359

359 ائمة التكفير كومباہلہ کا چیلنج حضرت خلیفہ امسح الرابع رحمہ اللہ نے رمضان المبارک 1988ء میں سورۃ آل عمران کی جن آیات کا درس ارشاد فرمایا ان میں ایک آیت مباہلہ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ كَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔( آل عمران (62) بھی تھی۔اس درس کے دوران آپ نے مباہلہ سے متعلق اسلامی تعلیم کے اصول اور ان اصولوں کی روشنی میں مباہلہ کے طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔آپ خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1988ء میں فرماتے ہیں: ای درس کے دوران میری توجہ اس طرف پھیری گئی کہ چونکہ یہ احمدیت کی پہلی صدی کے آخری ایام ہیں اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو سو سال سے تکذیب کی جارہی ہے اور پہلی صدی کے اختتام پر مکۂ بین کا شوروغوفا بہت بلند ہو گیا ہے اس لئے اس 66 وقت اس تکذیب کا جواب مباہلہ کے چیلنج ہی کے ذریعے دینا مناسب ہوگا۔" (خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 387) چنانچہ اسی خطبہ میں آپ نے اختصار کے ساتھ مباہلہ کے مضمون کے بعض اہم نکات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: مباہلہ محض غلط بات پر ایمان رکھنے والوں سے نہیں کیا جا رہا بلکہ ایسے غلط ایمان رکھنے والوں سے کیا جا رہا ہے جو جھوٹے ہیں۔جو جانتے ہیں کہ ان کے ایمان کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے۔جو واضح طور پر آنکھیں کھول کر خدا پر افترا کرنے والے ہیں۔پس ایسا مکذب جو بے حیا ہو چکا ہو، ایسا مکذب جس پر بسا اوقات یہ بات واضح