سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 347 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 347

347 چینیوں میں تبلیغ اور چینی ڈیسک کا قیام حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کے ابتدا میں ہی چین میں تبلیغ کی طرف توجہ فرمائی۔چینی زبان کے ماہر اور کے جید عالم مکرم محمد عثمان مچو صاحب کو چینی زبان میں لٹریچر کی تیاری اور چینیوں سے روابط کا فریضہ سونپا گیا۔چنانچہ چینی زبان میں لٹریچر کی تیاری کا کام زور شور سے شروع ہوا اور چینیوں میں تبلیغ کا کام وسیع ہوا۔1986ء میں انگلستان میں چینی ڈیسک کا قیام عمل میں آیا جس نے حضرت خلیفہ المسح الرابع کی زیر ہدایت اور نگرانی قرآن مجید اور دیگر اسلامی لٹریچر کے چینی زبان میں ترجمہ اور تیاری کا کام کیا۔جماعت کی صد سالہ جوبلی کے سال 1989ء میں یہ ترجمہ قرآن مکمل ہو گیا۔اسی طرح منتخب قرآنی۔آیات، منتخب احادیث اور منتخب تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی شائع ہو گئیں۔اس کے بعد لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ کا پروگرام بنایا گیا۔اور دنیا میں جہاں جہاں چینی آباد میں خصوصاً چین میں قرآن کریم کا چینی ترجمہ اور دیگر لٹریچر بھجوانا شروع کر دیا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے کئے جانے والے ترجمہ قرآن کریم کا چینیوں خصوصاً مسلمانوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔قرآن کریم کے چینی ترجمہ کی تعریف میں بے شمار خطوط موصول ہوئے اور لوگ لٹریچر کا مطالبہ کرنے لگے۔اکثر لوگوں کی رائے میں یہ ترجمہ اور نوٹس چینی تراجم میں سب سے اعلیٰ ہے۔لوگوں نے خریدنے کی خواہش بھی کی اور خود چھپوانے کی اجازت بھی مانگی۔اور ایک شخص نے تو بغیر اجازت ہی شائع کر دیا۔حضور نے آئندہ چینی زبان کے ماہرین تیار کرنے کے لئے بھی سکیم تیار فرمائی اور وقتاً فوقتاً واقفین زندگی کو زبان سیکھنے کے لئے چین بھیجوانا شروع کیا۔اسی طرح یہ تحریک بھی فرمائی کہ دنیا کے احمدی اپنے واقف زندگی بچوں کو چینی زبان سکھانے کا انتظام کریں۔جب MTA شروع ہوا تو حضور رحمہ اللہ نے اس میں چینی زبان سکھانے کا پروگرام بھی رکھا۔اور MTA کے ذریعہ چینیوں کو تبلیغ کا پروگرام بنایا۔ایک تو چینی زبان سکھانے کا پروگرام شروع کرایا اور