سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 12 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 12

12 ملاقات کا ان سے موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلانمونہ جوشوریٰ کا ہم نے دیکھا ہے اپنے اپنے ملکوں میں، اسی سے ہمیں خدا تعالی کے فضل سے اتنی جلا ملی ہے اور اتنی روشنی عطا ہوئی ہے ذہن کو کہ اب ہم اپنے آپ کو احمدیت کے لئے پہلے سے زیادہ قربانی پر آمادہ پاتے ہیں“۔رپورٹ مجلس شوری ممالک بیرون منعقدہ مورخہ 30 دسمبر 1982, ( غیر مطبوعہ ) صفحہ 3) اس مجلس مشاورت کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں گھانا اور نائیجیریا کی دوخواتین مکرمہ سعیدہ حسن صاحبہ اور مکرمہ حذیفہ صاحبہ نے بھی اپنی آراء پیش کیں۔دور خلافت رابعہ کی پہلی مرکزی مجلس مشاورت حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے دورِ خلافت کی پہلی مرکزی مجلس مشاورت یکم، دو اور تین اپریل 1983 ء کو ربوہ میں منعقد ہوئی۔حضور رحمہ اللہ نے اس موقع پر فرمایا: ہماری مجلس شوری ( جو کہ گزشتہ 60 سال سے منعقد ہوتی چلی آرہی ہے ) تمام دنیا کے احمدی مسائل کو مد نظر رکھ کر سچا غور کرتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اب ایک مجلس شوریٰ اس غرض سے الگ بھی قائم کی گئی ہے کہ وہ خصوصی مسائل جو بیرون پاکستان کی احمد یہ جماعتوں کے ہیں اور جن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اس پر غور و فکر کریں اور مشورے دیں۔۔۔اس مجلس شوری نے اس (یعنی جماعت کی مرکزی مجلس مشاورت) کی سارے عالم کی مجلس شوری ہونے کی حیثیت کو ڈور نہیں کیا۔اسے ہٹایا نہیں ہے۔“ دور خلافت رابعہ کی اس پہلی مرکزی مجلس مشاورت کی ایک تاریخی اہمیت یہ تھی کہ حضور رحمہ اللہ کی ہدایت پر اس مجلس مشاورت میں پہلی مرتبہ خواتین کی نمائندگان نے خود اپنی آراء کا اظہار کیا۔اس سے پہلے یہ طریق تھا کہ خواتین کی نمائندگان اپنی آراء لکھ کر بھجوا دیتی تھیں اور مردوں میں سے ایک مقرر کردہ نمائندہ اُن آراء کو پڑھ کر سنا دیتا تھا۔ی مسئلہ کہ خواتین کی مجلس شوری میں نمائندگی ہو کہ نہ ہوسب سے پہلے 1929ء کی مجلس مشاورت کہ میں پیش ہوا تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے تاریخی حوالہ سے اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر