سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 330 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 330

330 کو قبول فرمایا اور ان کے ذکر کو بڑے پیار کے ساتھ قرآن کریم میں محفوظ فرمایا۔دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے تمام انبیاء کی دعاؤں کا خلاصہ اس شان کے ساتھ ، اس حفاظت کے ساتھ پیش کیا ہو جس طرح قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ نے قرآنی دعاؤں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے معانی و مطالب کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا اور اسی طرح نماز کی ظاہری حرکات اور نماز کے اندر پڑھے جانے والے کلمات کی پر معارف تشریح و تفسیر بیان فرمائی۔24 خطبات جمعہ پر مشتمل یہ بصیرت افروز مضمون یکجائی طور پر ذوق عبادت اور آداب دعا کے نام سے شائع ہوا جو A5 سائز کے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔اس مضمون کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روزنامہ الفضل ربوہ کے سیدنا طاہر نمبر (2003ء) کے لئے جو خصوصی پیغام عطا فرمایا اس میں آپ نے فرمایا: حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کا وجود نہایت پاک اور خدا تعالیٰ کی ذات میں ڈوبا ہوا و جو د تھا۔آپ کو خدا تعالی پر کامل تو کل تھا اور دعاؤں پر بہت زور دیتے تھے۔آپ نے اپنی ساری زندگی سب سے زیادہ دعا کو اہمیت دی۔خود بھی دعاؤں میں ہمیشہ مصروف رہتے اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت فرماتے رہتے۔چنانچہ دعا کی اہمیت کو احمدیوں کے دلوں میں راسخ کرنے کے لئے آپ نے بڑے پر معارف خطبات کا ایک طویل سلسلہ جاری فرمایا جن میں آپ نے قرآن کریم اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سوز میں ڈوبی ہوئی دعاؤں اور حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا اور اس طرح جماعت کے ہر فرد کو خواہ چھوٹا ہو یا بڑا دعاؤں کے حسین انداز سکھلائے اور دعاؤں پر ہر احمدی کے یقین کو ایک نئی روشنی اور پختگی عطا فرمائی۔کیونکہ یہ دعا ہی تو ہے جو ہماری عبادتوں کا مغز ہے۔پس حضور رحمہ اللہ کی یادوں کو زندہ رکھتے ہوئے میں بھی آپ سب کو دعاؤں کی طرف ہی توجہ دلاتا ہوں۔یاد رکھیں کہ دعاؤں سے ہی انسان اللہ تعالی کا مقرب بنا اور منعم علیہ میں داخل