سلسلہ احمدیہ — Page 322
322 مذہب کے نام پرخون انسان کی تاریخ خاک و خون میں لتھڑی پڑی ہے۔اس دن سے لے کر آج تک جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس قدر خون ناحق بہایا گیا ہے کہ اگر اس خون کو جمع کیا جائے تو آج رُوئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے کپڑے اس خون میں رنگے جاسکتے ہیں بلکہ شاید اس پر بھی وہ خون بیچ رہے اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لباس بھی لالہ رنگ کرنے کے لئے کافی ہو۔مگر مقام حیرت ہے کہ اس پر بھی آج تک انسان کی خون کی پیاس نہیں بھی ! یہ خون کبھی عزت و ناموس کے نام پر کئے گئے کبھی بغض و عناد کی بنا پر کبھی رزق کی تلاش میں نکلی ہوئی فاقہ کش قوموں نے یہ مظالم ڈھائے اور کبھی محض تسخیر عالم جابر شہنشاہوں کا مطمح نظر تھی۔پھر ایسا بھی بہت مرتبہ ہوا کہ یہ خون ریزیاں خود خدا کے ہی نام پر کی گئیں اور مذہب کو آڑ بنا کر سفاکانہ بنی نوع انسان کا خون بہایا گیا۔یہ سب کچھ ہوا اور آج بھی ہورہا ہے اور اپنے کردار کا یہ رخ دیکھ کر انسان کا دل بسا اوقات یاس و ناامیدی سے بھر جاتا ہے اور وہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا اسی لئے انسان کو پیدا کیا گیا تھا؟ ایک مذہب تھا کہ جس سے یہ توقع تھی کہ انسان کو انسانیت کے آداب سکھائے گا مگر خود اس کا دامن بھی خون آلود نظر آتا ہے۔“ 66 مذکورہ بالا اقتباس کتاب مذہب کے نام پر خون کے ابتدائی چند صفحات سے ماخوذ ہے۔حضرت (صاحبزادہ) مرزا طاہر احمد صاحب کی یہ کتاب سب سے پہلے دسمبر 1962ء میں شائع ہوئی۔اس میں آپ نے بعض مسلمانوں کے اسلامی جہاد کے متعلق غلط تصور اور اسلام کے نام پر دہشت پسندی اور قتل و غارتگری کے فاسدانہ خیالات کا قرآن کریم، احادیث نبویہ اور آنحضرت میم کے اُسوہ حسنہ کی روشنی میں پرزور اور مدلل بطلان ثابت کیا اور بتایا کہ ایسے افکار و خیالات کا اسلام کی حقیقی تعلیم سے دور کا بھی تعلق نہیں بلکہ یہ خیالات اسلام کے دشمنوں اور متعصب مستشرقین کے آئینہ دار ہیں۔1989ء میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Murder in The Name of Allah کے نام سے شائع ہوا۔اس وقت کے معروضی حالات کے پیش نظر اسلام کے متعلق اہل مغرب کی