سلسلہ احمدیہ — Page 311
311 جاتی ہیں اور رخ صداقت پر پہلے سے زیادہ نکھار آجاتا ہے اور حق ایک نئی شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔اس کی ایک مثال حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات کا وہ مجموعہ ہے جو مزحق الباطل کے عنوان سے اس وقت منصہ شہود پر آیا جب پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی ایماء پر حکومت پاکستان کی طرف سے 1984ء کے آرڈ مینٹس XX کی بزعم خود تائید میں قادیانیت اسلام کے لیے سنگین خطرہ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا گیا جس میں جماعت احمد یہ مسلمہ کے خلاف جھوٹے پروپیگینڈے اور کذب و افتراء کی بھر مار کر دی گئی اور تہذیب و شرافت اور شرم و حیا کی تمام اقدار بالائے طاق رکھ دی گئیں۔اسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر دنیا میں کثرت سے تقسیم کیا گیا اور اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان میں احمدیوں کو اس ظالمانہ آرڈینینس (Ordinance XX) کے نفاذ کے ذریعے سے دفاع کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔اس مینہ قرطاس ابیض میں جو جھوٹ کی سیاہی سے بھر پور تھا بانی جماعت احمدیہ کی ذات کی کردار کشی کی کوشش کے علاوہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے خلاف انتہائی غلط تصویر پیش کی گئی اور ایسے بے بنیاد اعتراضات اٹھا کر نفرت اور اشتعال انگیزی کی مذموم کوشش کی گئی جن کے جوابات بار ہا جماعت کی طرف سے دیئے جاچکے تھے۔اس تناظر میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے حقیقت کے اظہار اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کے رڈ کے لیے خطبات کا ایک سلسلہ شروع فرمایا جو 25 جنوری 1985ء سے شروع ہو کر 31 مئی 1985ء تک جاری رہا۔خطبات کے اس گراں قدر علمی مجموعہ میں آپ کا وہ بصیرت افروز خطاب بھی شامل ہے جو آپ نے جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر عرفان ختم نبوت“ کے عنوان سے 7 ر ا پریل 1985ء کو اسلام آباد ( ملفورڈ ) میں فرمایا تھا۔یہ خطبات و خطاب کیا تھے ؟ گویا استدلال و براہین کی ایک مجوئے نور تھی جو بے بنیاد الزامات اور بودے اعتراضات کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی۔آپ نے ایک ایک اعتراض کو لیا، قرآن و سنت کے معیاروں پر پرکھا، عقل و خرد کی میزان پر تو لا اور تاریخی شہادتوں کی روشنی میں اس کا ایسا رد کیا