سلسلہ احمدیہ — Page 309
309 رسالہ فتح اسلام“ لکھا جو 1891ء کے اوائل میں چھپ کر شائع ہوا۔اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ آنحضرت ام کی پیشگوئی کے مطابق "مسیح جو آنے والے تھا یہی ہے۔چاہو تو قبول کرو۔نیز فرمایا کہ مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔“ یہ مختصر رسالہ بہت سے اہم مضامین پر مشتمل ہے۔آپ نے اس میں بتایا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا تادین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔آپ نے لکھا کہ مسچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لیے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے۔“ آپ نے اسلام کے احیاء کے تقاضوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل ایک وسیع منصو بہ بھی پیش فرمایا۔عہد خلافت رابعہ میں اس نہایت اہم رسالہ کی تصنیف پر بھی سو سال کا عرصہ پورا ہوا۔چنانچہ اس کے مختلف زبانوں میں تراجم کر کے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔حسب ذیل 6 زبانوں میں اس کی اشاعت ہوئی۔بنگلہ۔انگریزی۔فریج۔جرمن۔انڈونیشین۔اردو۔ہماری تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 5 اکتوبر 1902ء کو ایک کتاب کشتی نوح تحریر فرمائی۔اس کی وجہ تالیف یہ تھی کہ حضور علیہ السلام نے 6 فروری 1898ء کو ایک رؤیا دیکھا جس میں آپ کو ہندوستان میں طاعون کی وبا کے پھیلنے کی خبر دی گئی۔آپ نے اس انداری خبر کی تشہیر فرمائی۔اس پیشگوئی کے مطابق پنجاب میں طاعون پھیلی اور ماہ اکتوبر 1902ء میں جبکہ طاعون زوروں پر تھی گورنمنٹ نے پنجاب میں طاعون کے ٹیکے کی سکیم وسیع پیمانہ پر شروع کی اور تقریر و تحریر کے ذریعے سے یہ پروپیگنڈا کیا کہ ہر شخص کے لئے ٹیکہ لگانا ضروری ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ٹیکا لگوانے سے انکار کیا اور 5 اکتوبر 1902ء کو کشتی نوح کتاب شائع فرمائی جس میں آپ نے گورنمنٹ کی طرف سے ٹیکا کے انتظامات کو سراہتے ہوئے فرمایا: یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے۔“