سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 272 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 272

272 اور اس نیت اور دعا کے ساتھ ہم نے تجھ کو مانگا تھا خدا سے کہ۔۔۔آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے اس کے عظیم الشان مجاہد بن جاؤ۔اگر اس طرح دعائیں کرتے ہوئے لوگ اپنے آئندہ بچوں کو وقف کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ بہت ہی حسین اور بہت پیاری ایک نسل تمہاری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوگی۔خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 1987ء۔خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 246-250) تحر یک وقف ٹو کی ضرورت اور غرض وغایت جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا جاچکا ہے کہ وقف ٹو کی تحریک سے قبل بھی جماعت میں وقف زندگی کا نظام قائم تھا اور لوگ خود اپنی یا اپنی اولاد کی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کیا کرتے تھے۔لیکن پیدائش سے قبل بچوں کو وقف کرنے کی اس نئی تحریک کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس میں کیا خاص بات پیش نظر تھی۔اس پہلو سے حضور رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / فروری 1989ء میں ایک تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: ”خدا کے حضور بچے کو پیش کرنا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے۔کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اور آپ یاد رکھیں کہ وہ لوگ جو خلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیار کی نسبت سے اُن قربانیوں کو سجا کر پیش کیا کرتے ہیں۔قربانیاں اور تحفے در اصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور اُن کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض لوگ تو مینڈھوں کو ، بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو ان کو زیور پہنا کہ پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاوٹیں کرتے ہیں۔انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہیں۔انسانی زندگی کی سجاوٹ تقویٰ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اُس کی