سلسلہ احمدیہ — Page 263
263 تقسیم کی گئیں جس کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں کو ہماریوں سے شفا ملی۔جس کی وجہ سے اس علاقہ پر بہت نیک اثر قائم ہوا۔جماعت احمدیہ کے تمام تبلیغی و دینی کاموں کی طرح اس عظیم الشان جہاد میں بھی اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں کی غیر معمولی تائید و نصرت شامل حال رہی اور بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے مومنوں کے ایمان کو تقویت عطا ہوئی اور مخالفین ذلیل اور شرمندہ ہوئے۔ایک ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مکرم سید سعید احمد صاحب لکھتے ہیں کہ : سبحان نامی گاؤں میں ہمارے ایک دورہ کے دوران وہاں پر مقیم ایک غیر از جماعت مولوی نے ( جود یو بند کا پڑھا ہوا ہے ) ہماری بہت مخالفت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف گستاخانہ کلمات کہے۔ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی اس مولوی کو بے شمار پریشانیوں نے گھیر لیا اور اسے مجبور اسبحان چھوڑ کر دہلی جانا پڑا۔دہلی پہنچ کر اسے یہ احساس ہوا کہ اس پر جو یہ مصائب و تکالیف آئی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کا نتیجہ ہیں۔چنانچہ اس نے نادم ہو کر دہلی سے خط لکھا کہ میں چاروں طرف سے مصائب میں گھرا ہوا ہوں اور مجھ پر یہ مشکلات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کے نتیجہ میں آتی ہیں۔مجھے معاف کر دیا جائے۔میں آج ہی احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔مجھ سے رابطہ کیا جائے اور میرے لئے دعا کی جائے“۔اسی طرح مکرم ظہیر احمد صاحب خادم لکھتے ہیں: މ علاقہ ارتداد میں ہمارے ایک مبلغ گاؤں کے پٹواری کے ہاں مقیم تھے اور تقریباً ایک سال سے وہاں تعلیم و تربیت کے کام میں مصروف تھے۔پٹواری صاحب فی ذاتہ انتہائی نیک فطرت ہیں۔ان کا داماد جو فوج میں تھا کچھ عرصہ سے شدھ ہو چکا تھا اور چوہان سبھا کا سرگرم رکن تھا۔اس فوجی کولوگوں نے طعن و تشنیع کی کہ تو چوہان سبھا کا بڑا سر گرم رکن بنا پھرتا ہے اور تیرے سسرال والوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے ایک مولوی کو اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔جب تک تو اس مولوی کو یہاں سے نہیں نکالے گا یہ سنٹر ٹوٹ ہی نہیں سکتا۔