سلسلہ احمدیہ — Page 259
259 جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ پاکستان میں جماعت کے حالات کی بنا پر ان کو اس بات کی جرات ہوئی لیکن میں ہندوستان کے ان انتہا پسند آریوں اور دیگر مذہبی جنونیوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ کسی قیمت پر بھی جماعت احمد یہ اس جہاد سے باز نہیں آئے گی۔حضرت ابو بکر صدیق کی سنت، آپ کا اسوہ ہمارے لئے کافی ہے۔اس معاملہ میں وہ سنت اور وہ اُسوہ بعینہ ان حالات پر چسپاں ہو رہا ہے۔جب ہر طرف اسلام کے خلاف، اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت پھیل گئی اور تمام عرب میں قبائل نہ صرف مرتد ہونے لگے بلکہ مرکز اسلام پر حملہ آور ہونے لگے۔بہت ہی دردناک طریق پر مسلمانوں کو جو چند مسلمان ان کے علاقوں میں ایسے تھے جنہوں نے ارتداد کا انکار کیا ان کو قتل کیا گیا، ان کے گھر جلائے گئے ، ہر طرح کی اذیتیں دی گئیں یہاں تک کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارا عرب اسلام کا بافی ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوگا۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نے جو حیرت انگیز اسلامی حمیت اور غیرت کا نمونہ دکھایا اور انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑی کامیابی اور عزم کے ساتھ اور کامل توکل کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ، اس تحریک کے مقابلہ پر مسلمانوں کو صف آراء کیا اور انتہائی کامیابی کے ساتھ اس مہم کو آخر تک پہنچایا یہاں تک کہ سارے عرب میں ایک بھی باقی باقی نہیں رہا۔اور یہ عظیم الشان واقعہ چند سالوں کے اندراندر ہوا ہے۔اور حضرت ابو بکر صدیق کی طبیعت کا علم اور بظاہر جو کمزوری تھی اور نرمی اور رفیق پایا جاتا تھا اس کے پیش نظر آپ کا یہ اُسوہ اور بھی زیادہ حیرت انگیز دکھائی دینے لگتا ہے۔کیسا عزم اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ، کیسی ہمت بخشی کہ اتنے زیادہ غالب دشمن کے مقابل پر اتنے تھوڑے مسلمانوں کے ساتھ جن کی لڑنے کی اہلیت رکھنے والی اکثریت ایک ایسے سرینہ پر بھجوائی جارہی تھی جو عرب کے شمال میں عالم اسلام کی سرحدوں پر واقع ہونے والا تھا۔اور باوجود اس کے کہ اس کی شدید ضرورت تھی مدینہ میں چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی بھی ہم نے وہ سریہ مقرر فرمایا تھا اس لئے آپ نے اس لشکر کو بھی نہیں روکا۔گو یا کمزوری کی حالت اس سے بہت زیادہ خطر ناک تھی جو ویسے بھی مؤرخین کو صاف دکھائی دیتی ہے۔اگر وہ لشکر باہر نہ بھی بھیجوایا جاتا تو مدینہ کے مسلمانوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ سارے عرب کے قبائل کا مقابلہ کر سکے۔اگر وہ شکر یہ بھی بھجوایا جاتا تب بھی ان عرب قبائل کے مقابلہ کے لئے صف آراء ہو جانا ایک عظیم