سلسلہ احمدیہ — Page 252
252 ہموار۔لہذا اکثر و بیشتر خراب موسم اور نشیب و فراز سے بھر پور راستوں سے پیدل سفر کر کے خلق خدا کو احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔بعض سفروں میں مکرم حاجیری صاحب ہمراہ تھے جبکہ بعض دیگر میں ایک احمدی طالب علم Mr۔Hamid Stanbuly ساتھ رہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسیری : مالاوی جو آئینی لحاظ سے ایک سیکولر (Secular) ملک ہے اور یہاں اپنے مذہب کے پر چار کرنے کی بالکل آزادی ہے، اس ملک میں قائم مسلم ایسوسی ایشن نے پولیس کی ملی بھگت سے احمدیت کا پیغام پہنچانے والے ان فرشتہ صفت احباب پر سراسر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں گرفتار کروا دیا۔اور جیسا کہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے مالاوی میں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے کافی لمبے عرصے تک بھی لوگوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ہر تین احباب کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد مکرم سٹانبولی صاحب کو بوجہ طالب علم ہونے کے رہا کر دیا گیا جبکہ مکرم مقبول احمد ذبیح صاحب اور مکرم حاجیری صاحب کو سخت ناگزیر حالات میں محض اللہ تعالیٰ کے مسیح کا پیغام پہنچانے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔جبیل میں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات کی وجہ سے مکرم ذبیح صاحب بہار رہنے لگے اور ہسپتال بھی جانا پڑا۔اس دوران مکرم سٹانبولی صاحب کے ذریعہ حضرت خلیفة اصبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو حالات سے آگاہ کیا گیا اور باقاعدہ رپورٹ بھیجوائی جاتی رہی۔حضور انور رحمہ اللہ کی دعاء توجہ اور رہنمائی کی بدولت 30 مارچ کو ان اسیران کی معجزا نہ رہائی کے سامان پیدا ہو گئے۔اور جس پولیس آفیسر نے انہیں جیل میں ڈالتے ہوئے بڑے متکبرانہ انداز میں یہ کہا تھا کہ ایک انڈین کو بھی بند کیا ہوا ہے۔اب وہ وہیں گل سڑ جائے گا اور کبھی رہا نہیں ہو سکے گا۔وہ خدا خدا کرتا پھرتا ہے۔پولیس میں خدا کا کوئی تصور نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کی غیرت فرماتے ہوئے چند ہی دنوں بعد اسی پولیس افسر کے ہاتھوں انہیں رہا کروایا۔رہائی کے بعد مکرم ذبیح صاحب کا پاسپورٹ پولیس نے اپنے قبضہ میں رکھا اور پولیس سٹیشن میں روزانہ حاضری لگانے کی شرط پر رہا کیا گیا۔اس دوران آپ نے لمبے (Limbe) میں ایک ریسٹ ہاؤس کا ایک کمرہ کرائے پر