سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 251 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 251

251 بنایا گیا اور یوں اس سکیم کے تحت زیمبیا کے حصہ میں مالاوی اور زمبابوے آئے۔الفضل انٹرنیشنل 14/8 مارچ 1996ء) مرکز کی طرف سے سو ممالک میں تبلیغی منصوبہ کے تحت یہ ملک تنزانیہ اور زیمبیا مشن کے سپرد کیا گیا۔ہر دو مشنز کی طرف سے تبلیغی کوششیں ہوتی رہیں۔مالاوی (Malawi) افریقن ممالک میں ے ایک وہ ملک ہے جہاں بیرونی لوگوں کو تبلیغ کی ویسے اجازت نہیں ہے اس لئے زیادہ تر وہاں کیسٹس سے کام لیا گیا۔مالاوی زبان میں کیسٹس تیار کروائی گئیں اور وہاں بھجوائی گئیں۔1985ء میں زیمبیا مشن کی تبلیغی کوششوں سے بیعتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔86-85ء میں تنزانیہ مشن کی طرف سے کیا ؤ زبان میں تین کیسٹس مالاوی بھجوائی گئیں۔ایک دوست وقف عارضی کے تحت وہاں گئے۔زیمبیا مشن نے چار مزید بیعتوں کی اطلاع دی۔نیز مکرم مقبول احمد ذبیح صاحب مبلغ انچارج زیمبیا مشن نے 87-1986ء میں مالاوی کا تفصیلی دورہ کیا۔اس دورہ کے دوران آپ کو اور اس ملک کے پرانے احمدی مکرم اے سی حاجیری صاحب کو قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں۔لیکن انہوں نے بڑی بہادری کے ساتھ ان مشکلات کا مقابلہ کیا۔1986ء میں وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے با قاعدہ جماعتی تنظیم قائم ہو گئی۔اس کی مزید تفصیل مکرم مقبول احمد ذبیح صاحب مرحوم کے ایک مضمون مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل شمارہ نمبر 45 اور 46 سے خلاصہ ذیل میں درج کی جاتی ہے۔مرکز کی اجازت سے مکرم مقبول احمد صاحب ذبیح مبلغ انچارج جماعت احمدیہ زیمبیا نے 13 / دسمبر 1987ء کو مالاوی کا سفر اختیار کیا۔وہاں مکرم حاجیری صاحب سے ملے اور ان کے ہاں مہمان ٹھہرے۔مکرم ذبیح صاحب کے جانے سے پہلے ہی مکرم حاجیری صاحب مالاوی میں جماعت کی باقاعدہ رجسٹریشن کی کوشش کر رہے تھے۔اس کے بارہ میں لائحہ عمل طے کر کے کام کو مزید آگے بڑھایا گیا۔تبلیغی سفر اور پر اثر تقاریر : مؤرخہ 15 دسمبر 1987ء سے 2 جنوری 1988 ء تک انہوں نے دور دراز کے دیہی علاقوں کا دورہ کیا۔جس کے دوران انہوں نے احمدیوں سے رابطہ جبکہ غیر احمدی مسلمانوں کو تبلیغ کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔یہ گاؤں ایسے علاقوں میں واقع تھے جہاں نہ کوئی ٹرانسپورٹ پہنچ سکتی تھی اور نہ ہی راستہ