سلسلہ احمدیہ — Page 246
246 موعود ع السلام نے ان کے جوابات عطا فرمائے جن سے آپ بیحد متاثر ہوئے۔حضرت اقدس مسیح موعود ع السلام کے ملفوظات جلد اس میں ان دونوں ملاقاتوں کا تفصیل سے ذکر ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ جو ان پروفیسر صاحب کو اپنے ساتھ لائے تھے، نے بھی اپنی کتاب ذکر حبیب میں پروفیسر Wragge کا حضرت اقدس مسیح موعود عالی کام سے ملاقات کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ہندوستان کے اس سفر کے بعد پروفیسر صاحب نیوزی لینڈ چلے گئے تھے۔بعد میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ سے آپ کی خط و کتابت رہی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب پروفیسر ریگ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ پروفیسر بعد میں احمدی ہو گیا تھا اور مرتے دم تک اس عقیدہ پر قائم رہا اور اس کے خطوط میرے پاس آتے رہے۔گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے ہی احمدیت کا نفوذ ہو چکا تھا۔1987ء میں یہاں باقاعدہ جماعت کے قیام سے قبل مختلف ممالک سے احمدی طلباء نیوزی لینڈ میں آکر کچھ عرصہ قیام کرتے رہے۔جن میں جلال مقبول صاحب (1980ء) ، محمد اقبال صاحب (1981ء) ڈاکٹر محمد اسلم ناصر صاحب ( 1982ء) کے دوران یہاں رہے۔85-1984 کے عرصہ میں محمد اسلم ناصر صاحب نے یونیورسٹی کے شعبہ مطالعہ مذاہب کے صدر سے مل کر اسلام پر آٹھ لیکچر دیئے اور یونیورسٹی کے طلباء کو پیغام پہنچایا۔خطاب حضرت خلیفة اسم الرابع بر موقع جلسہ سالانہ یو کے 1985ء دوسرا روز بعد دو پہر) مئی 1987ء میں یہاں با قاعدہ جماعت کا قیام عمل میں آیا اور مکرم مبارک احمد خان صاحب اس کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔19 اگست 1987ء کو جماعت کی رجسٹریشن کے لئے جسٹس ڈیپارٹمنٹ آک لینڈ میں درخواست دی گئی۔25 دسمبر 1987ء کو لجنہ اماء اللہ کی تنظیم قائم کی گئی۔وسط 1988ء میں ڈاکٹر محمد سہراب صاحب نیشنل قائد خدام الاحمدیہ نیوزی لینڈ مقرر ہوئے۔اسی سال اقبال احمد خان صاحب نیشنل ریم انصار اللہ مقرر کئے گئے۔اسی عرصہ کے دوران حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی منظوری سے پیام امن کے نام سے جماعتی رسالہ کا آغاز ہوا۔