سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 240 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 240

240 تھی۔اس رسالے سے حاصل ہونے والی معلومات کو انہوں نے مکرم یوسف Kabasuasua صاحب تک پہنچایا تو انہوں نے بھی احمدیت کو قبول کر لیا۔پھر یہ دونوں احباب Kananga کے مکرم ابرہیم Batubiabia کے پاس گئے۔انہوں نے بھی پیغام حق کو قبول کر لیا۔ان لوگوں نے رسالے پر دیئے گئے ایڈریس پر خط لکھا۔اس خط کا جواب مئی 1976ء میں آیا جس کے ساتھ چند سواحیلی کتب بھی تھیں۔ان کتب میں کسی جگہ دس شرائط بیعت بھی درج تھیں۔انہوں نے شرائط بیعت والے حصے کو فوٹو کاپی کر کے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو دینا شروع کیا اور جب ایک تعداد نے بیعت کر لی تو یہ بیعت فارمز مرکز ارسال کر دئیے۔مرکز کی طرف سے پیغام ملا کہ اپنا ایک نمائندہ چن کر اطلاع دیں۔چنانچہ انہوں نے عثمان بادی نے بانٹو کو اپنا نمائندہ مقرر کیا اور مرکز اطلاع دی جہاں سے تقرری کا خط بھی موصول ہوا۔احمدیت کو صوبہ کسائی اوکسی ڈینٹل میں متعارف کروانے کے لئے عثمان بادی نے بانتو صاحب نے بہت کوشش کی جس کے نتیجہ میں 1976ء میں 81 افراد نے احمدیت قبول کی۔ابتدائی مساجد : 1978ء تک کا نانگا میں مزید احمدی ہو چکے تھے۔انہوں نے کا نانگا کے نواحی گاؤںNtambwe میں پیغام دیا تو یہاں لوگوں نے احمدیت کو قبول کر لیا۔ان احمدیوں نے اعلامیہ تبلیغ شروع کر دی اور یہ دعا کی کہ خدا تعالی پورے ملک میں احمدیت قائم کر دے اور احمد یہ مسجد قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔جب وہاں کے چیف سے زمین کے حصول کے لئے درخواست کی گئی تو اس نے جگہ دے دی۔مسجد کی تعمیر میں احباب جماعت نے بڑی محنت اور لگن سے کام کیا خصوصا گیارہ آدمیوں نے خود کام کر کے کچی مسجد کی تعمیر کا کام مکمل کیا۔کونگو کے مشرقی صوبہ Maniema ( مانی اے ما) کے علاقے Karomo ( کارومو) میں مکرم اور لیس Kapaya صاحب نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کر لی تھی۔پھر 1974ء میں ان کے ذریعہ مکرم حسن Mwiny Sefu صاحب نے احمدیت قبول کر لی۔اسی طرح Maniema شہر