سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 205 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 205

205 میں رابطوں اور تبلیغ کے امکانات روشن ہوئے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے رشیا اور سابقہ سوویت یونین کی ریاستوں میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے اور حالات کا جائزہ لینے کی غرض سے مرکز سے وقتا فوقتا مرکزی مبلغین اور بعض دیگر نمائندگان کو بھجوانا شروع فرمایا جنہوں نے رشیا، بیلاروس بتھوانیا، ازبکستان، منگولیا وغیرہ کا دورہ کیا۔ان دوروں کے نتیجے میں بعض مقامات پر بعض سعید روحوں کو قبول احمدیت کی توفیق نصیب ہوئی۔حضور کے ارشاد پر 1991ء میں مکرم منیر الدین شمس صاحب نے جماعت کی نمائندگی میں احمد یہ مسلم پبلیکشنز کی طرف سے انٹرنیشنل بک فیئر ماسکو میں شرکت کی۔اسی طرح آپ نے ماسکو اور لینن گراڈ کا دورہ کیا۔ماسکو پبلک لائبریری میں رشین ترجمہ قرآن کریم اور جماعت کی بعض دیگر کتب بھی رکھوائی گئیں۔لینن گراڈ میں جماعتی کتب کی طباعت کے سلسلہ میں مختلف کمپنیوں سے رابطے گئے۔1992ء میں آپ دوبارہ سوویت یونین کی مختلف ریاستوں کے دورہ پر تشریف لے گئے۔اس دورہ میں مختلف اہم مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔انہیں جماعت کا تعارف کروایا اور جماعتی لٹریچر بھی دیا۔ماسکو اور کاذان کے دورہ میں مکرم ڈاکٹر ولی احمد شاہ صاحب آف لندن بھی بطور واقف عارضی آپ کے ساتھ رہے۔اس دورہ میں 10 بیعتیں بھی ہوئیں۔1993 ء کے آغاز میں پاکستان سے باقاعدہ طور پر چار مربیان کرام کو ان علاقوں کی طرف بھجوایا گیا۔ان مبلغین میں مکرم سید حسن طاہر بخاری صاحب، مکرم حافظ سعید الرحمن صاحب ، مکرم مشہود احمد ظفر صاحب اور مکرم را نا خالد احمد صاحب شامل تھے۔ان کے ساتھ مکرم ڈاکٹر عبد الخالق خالد صاحب کو بھی بھیجوایا گیا۔یہ سب احباب یکم فروری 1993ء کو ازبکستان کے شہر تاشقند پہنچے جہاں پہلے سے موجود مبلغ سلسلہ مکرم مرز انصیر احمد صاحب اور ایک مقامی احمدی دوست مکرم اسحاق جمالوف صاحب نے ائر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔تاشقند میں تین دن کے قیام کے بعد یہ سارے احباب تاشقند سے بذریعہ جہا ز فلائی کر کے 4 فروری کی صبح رشیا کے دارالحکومت ماسکو پہنچے۔ماسکو میں چند روز قیام کے بعد مبلغ سلسلہ مکرم چوہدری اخلاق احمد انجم صاحب جو قبل ازیں رشیا کا