سلسلہ احمدیہ — Page 199
199 6 رنومبر 1995ء کومکرم خواجہ مظفر احمد صاحب مبلغ سلسلہ بیلاروس پہنچے۔تقریبا 5 ماہ کے بعد آپ کی قازخستان کے مبلغ کے طور پر تقرری ہوئی۔مکرم شاہد محمود کاہلوں صاحب مبلغ سلسلہ 31 / اکتوبر 1996ء کو گرودنا، بیلا روس پہنچے۔ان کی تقرری Minsk کے سینٹر میں کی گئی۔ان کے زیر تبلیغ دوست مکرم را فائیل کشکل دین صاحب ( اور شا) کو 30 اپریل 1997ء کو بیعت کر کے میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ہنگری (HUNGARY) ہنگری میں مشن کا آغاز در حقیقت 1936ء میں ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس زمانہ کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی تیزی سے ہنگری میں ایک طبقہ نے احمدیت کے پیغام کو یعنی حقیقی اسلام کو قبول کیا لیکن اس کے بعد جنگ کے حالات نے تبلیغ احمدیت کو اور احمدیت کے نفوذ کو وہاں ناممکن بنا دیا۔چونکہ بہت جلد وہاں ایک اشترا کی انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجہ میں تمام مذاہب پر نشوونما میں اور تبلیغ میں پابندیاں لگادی گئیں یہاں تک کہ بہت سے قبرستانوں کے کتبے بھی اکھاڑ پھینکے گئے اور جو احمدی تھے وہ دنیا میں ادھر ادھر بکھر گئے۔کبھی کبھار ان کے ساتھ جنوبی امریکہ سے خطوں کے ذریعہ رابطہ ہوا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ وہ رابطہ بھی مٹ گیا۔چنانچہ ہنگری کو 1988 ء میں ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا جہاں با قاعدہ جماعت احمدیہ کا نفوذ ہو چکا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ یو کے 1993ء کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا: اب اس نئے دور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ وہاں رابطے مکمل ہوئے اور سب سے پہلا پھل جو اس دور کا ہے وہ مخلوس زلئی (MIKLOS ZELEI) ہیں جو خود انگلستان تشریف لائے تھے ہمارے ایک بہت ہی مخلص رشین احمدی دوست را ویل صاحب چونکہ علمی طبقوں میں بہت شہرت رکھتے ہیں۔اس لئے ان سے بھی اسی لحاظ سے ان کے تعلقات تھے۔وہ ان کو بار بار مسجد لانے لگے اور