سلسلہ احمدیہ — Page 180
180 سر یوکریٹ ہے۔ان کی اکثریت عیسائی ہے۔دس فیصد کی مادری زبان Macedonian ہے۔8 فیصد کی مادری زبان Slovenian ہے۔دس فیصد کی مادری زبان البانین ہے۔ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔اکتوبر 1983ء میں مکرم مشتاق احمد صاحب باجوہ کی تبلیغ سے ایک دوست Mr۔Daut Dauti احمدی ہوئے جنہوں نے بعد میں انگلستان آکر ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی اور بعض سر بو کر بیٹ زبان میں کئے گئے تراجم کے مسودات کو ٹائپ کیا۔اور واپس جا کر تبلیغ کا کام جاری رکھا۔1986ء کے دوران وہاں 30 افراد پر مشتمل جماعت بن چکی تھی۔محترم ڈاکٹر عیسی رستمی (Dr۔Isah Rrustemi ) صاحب کو سودو کے ابتدائی احمدیوں میں سے ہیں اور 2010 تا 2012 ، جماعت احمدیہ کو سودو کے صدر بھی رہے ہیں۔محترم ڈاکٹر عیسی رستمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کوسوو دو میں اکثریت البانین قوم آباد ہے، لہذا وہاں پر زبان بھی البانین بولی جاتی ہے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب کوسووو (Kosovo) یوگوسلاویہ میں ہوتا تھا اور یوگوسلاویہ ایک کمیونسٹ سٹیٹ کہلاتا تھا۔اور Bashkasia Islame اسلامی یونین وہ واحد ادارہ تھا جو مسلمانوں کی نمائندگی کیا کرتا تھا۔یوگوسلاویہ کے چند مسلمانوں کا جماعت احمدیہ مسلمہ سے سب سے پہلا رابطہ 1974ء میں Zurich سوئٹزرلینڈ میں ہوا جب وہاں جماعت احمدیہ کی مسجد کا افتتاح ہورہا تھا۔بہت سارے البانین مزدور جو سوئٹزرلینڈ میں کام کیا کرتے تھے مسجد کا افتتاح دیکھنے کے لئے گئے۔جماعت احمدیہ کے ساتھ یوگوسلاویہ کے البانین مسلمانوں کے رابطہ کی یہ ایک حسین ابتدا تھی۔میرے گاؤں Kokaj ( کو کانے ) کے ایک شہری مسمی Demush Ismaili صاحب نے ایک قافلہ کے ساتھ ربوہ پاکستان کی زیارت کی اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا۔وہاں سے واپس آنے کے بعد مکرم موصوف نے میرے والد محترم Murat Rrustemi صاحب کو جماعت احمدیہ کے بارے میں Zurich کی مسجد اور پاکستان کے سفر کے حوالہ سے اپنے گہرے تاثرات بتائے تھے۔مکرم Demush Ismaili صاحب وہ پہلے شخص تھے