سلسلہ احمدیہ — Page 166
166 گئے تھے۔گاڑی" پیمبا " (Pemba) (ریجنل دار الحکومت) سے گزرتے ہوئے " مویڈ" ( Mweda) سے تنزانیہ رہی تھی کہ " مویڈا پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو گئی۔ڈرائیور نے کہا کہ گاڑی آگے جانے کے قابل نہیں ہے۔لہذا ہم پیدل چل کر " مویڈ" پہنچے۔وہاں ہمیں قید کر لیا گیا۔کچھ دنوں بعد ہمیں حکم ہوا کہ موزمبیق کے جس جس علاقے سے جو آیا ہے واپس جائے گا۔تنزانیہ جانے کی اجازت نہیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ کوئی گاڑی نہیں ہے پیدل واپس جائیں۔ہم مسلسل چار دن پیدل چلتے رہے۔اس سے ہم کمزور ہو گئے، راستے میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے بھی کافی تکلیف اٹھانی پڑی۔بہر حال شیمپے (Chipembe) میں جو تبلیغ کا کام میں نے شروع کیا تھا اس کو جاری رکھا۔اور خدا تعالیٰ نے بہت تبلیغ کرنے کا موقع بھی دیا اور کئی افراد نے بیعت کی۔مخالفت بھی بہت ہوئی۔ہم نے جب مسجد بنائی تو سرکاری افسر کو کہہ کر ہماری مسجد کو تالا لگوادیا گیا۔ہم باہر نماز پڑھنا شروع ہو گئے۔پھر ہم نے دوسری جگہ مسجد بنائی اس کو بھی سرکار نے بند کروایا۔کچھ عرصہ بعد تیسری مسجد بنائی۔اسی طرح اس کو بھی بند کروادیا گیا لیکن ہم کھلی جگہ پر باجماعت نمازیں پڑھتے رہے۔ایک مخالف احمدیت جو کہ جادوٹو نا بھی کرتا تھا اس کو ایسی بیماری لگی کہ وہ کو نئے کھاتا تھا اور کہنے لگا کہ میں معلم رشیدی یاولی اور معلم رشیدی نادی کے جادو کی وجہ سے مر جاؤں گا۔معلم رشیدی یاولی نے اس کو جواب دیا کہ ہم نے کوئی جادوٹو نا نہیں کیا بلکہ تم جو ہم احمدیوں پر حیلے کرتے ہو و ہی تم پر ٹوٹ کر آئے ہیں۔اگر تم ٹھیک ہونا چاہتے ہو تو تو بہ کرو اور احمدیت سے عداوت چھوڑ دو تو خدا تعالی تمہیں ٹھیک کر دے گا۔اس نے توبہ کی ، خدا تعالیٰ نے اس پر رحم کیا اور وہ ٹھیک ہو گیا اور اس کے بعد کئی سال تک زندہ رہا۔اس کے بعد اس نے مخالفت نہیں کی۔اس کے بعد پھر مخالفت کا زور بڑھا۔ایک دن مخاصمہ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔پولیس آئی۔رشیدی یاولی ، رشیدی نادی اور عباس مریجالا اور اہل السنہ میں سے بھی ایک آدمی کو گرفتار کیا۔رشید یا ولی صاحب بتاتے ہیں کہ ہم ایک ماہ تک قید میں رہے۔اس عرصہ میں انہوں نے ہمیں نماز پڑھنے سے سختی سے