سلسلہ احمدیہ — Page 167
167 روک دیا تھا لیکن ہم کسی نہ کسی طرح عبادت کر لیتے تھے لیکن ان کو اس بات کا علم نہ ہونے دیتے۔ایک ماہ بعد ہمیں آفس میں بلایا گیا اور پولیس آفیسر نے دونوں پارٹیوں سے ان کا اعتقاد پوچھا۔خاکسار نے ان کو احادیث نبویہ کی رُو سے بتایا کہ بدعات مثلاً مولود، ختمہ ، اربعین، اس طرح کی تمام بدعات دین کا حصہ نہیں ہیں۔آفیسر نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔پولیس آفیسر نے کہا کہ تم لوگ ان احمدیوں کی پیروی کرو جو اپنی بات کی دلیل تو جانتے ہیں۔تم دونوں پارٹیاں اب سے ایک ہی مسجد میں نماز پڑھا کرو گے۔ہم نماز کے لئے جلدی پہنچتے اور ہمیشہ امامت کراتے۔کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے وہ مسجد چھوڑ دی۔لیکن کبھی کبھی وہ اس مسجد میں آجایا کرتے تھے۔پھر ہم نے حالات دیکھ کر اپنی مٹی کی کچی عمارت کی مسجد بنالی تھی۔ایک سال ایسا ہوا کہ جس طرف احمدیوں کی فصلیں تھیں اس طرف بارشیں ہوئیں اور جس طرف غیر از جماعت کی فصلیں تھیں اس سال ان کی فصلیں سوکھ گئیں۔اس طرح خدا تعالٰی مومنین کے ازدیاد ایمان کے لئے اپنی تائیدات کے نظارے بار بار دکھاتا رہا۔“۔۔۔۔۔طوالو (TUVALU) سو ممالک میں تبلیغی منصوبہ کے تحت جن نئے ممالک میں 86-1985ء کے دوران احمدیت کا نفوذ ہوا ان میں سے ایک طوالو ( Tuvalu) ہے۔طوالو ساؤتھ ایسٹ پیسیفک کے جزائر میں سے ایک چھوٹا سا جزیرہ عملاً زمین کے کنارے پر Dateline کے پرلی طرف واقع ہے۔یہ برٹش کالونی ہے۔رقبہ 24 مربع کلومیٹر، دار الحکومت Funafuti ہے۔ان کی اپنی زبان Tuvaluan ہے۔انگریزی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔عیسائیت یہاں 1861ء میں پہنچی۔80 فیصد لوگ Tuvaluan Church سے وابستہ ہیں جو لندن مشنری سوسائٹی کے ذریعہ جاری ہوا۔حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس جزیرہ میں تبلیغی مساعی کے آغاز کا پس منظر بیان کرتے