سلسلہ احمدیہ — Page 162
162 فرمایا تو گیمبیا سے گنی بساؤ میں دعوت الی اللہ کی کوششوں میں مزید تیزی آئی۔اور ایک قلیل عرصہ کے اندر سینکڑوں بیعتیں ہوئیں اور نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا اور یہاں 6 ر نئے مقامات پر احمدیت کا پودا لگا۔اس کے ساتھ ہی تعلیمی وتربیتی مساعی کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔1994 ء میں گنی بساؤ کے باقاعدہ دس معلمین تیار کرنے کے بعد جماعتوں میں مقرر کر دیے گئے۔اس دوران گیمبیا کے ایک مقامی مشنری مکرم اسماعیل تراولے صاحب ( مرحوم ) کو بھی گیمبیا سے گنی بساؤ ٹرانسفر کر دیا گیا اور وہ فریم جماعت میں آکر سیٹل ہو گئے اور کام شروع کر دیا۔بعد ازاں 1996ء میں رمضان المبارک کے مہینہ میں ایک حادثہ کے نتیجہ میں ان کو شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔1994ء میں گنی بساؤ میں مرکزی مبلغ کا باقاعدہ تقرر ہوا۔جولائی 1995ء میں گنی بساؤ جماعت کی با قاعدہ رجسٹریشن ہوئی۔دارالحکومت بساؤ میں جماعتی مشن کا آغاز کرایہ پر مکان لے کر کیا گیا۔2000 ء تک چالیس لوکل معلمین اور دومزید مرکزی مبلغین گنی بساؤ میں کام کر رہے تھے۔جماعت احمد یہ گنی بساؤ نے لوگوں کو اسلام سکھانے اور قرآن کریم کی تعلیم دینے کے علاوہ ضرورت مندوں، محتاجوں اور بیواؤں کی امداد اور خدمت خلق کے کام بھی انجام دیئے۔1997ء میں تین دیہات گابو (Gabu) ریجن میں آگ لگنے سے جل گئے تھے۔اسی طرح 2000ء میں بعض دیہات آگ لگنے کی وجہ سے جل گئے تھے۔ان مواقع پر اور اس کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر جماعت کو حکومت کی درخواست پر متاثرین اور ضرورت مندوں اور قیدیوں اور مریضوں کی خدمت اور علاج کی توفیق ملی۔1998ء میں گردن توڑ بخار کی وبا پھیلنے کے موقع پر جماعت کو متاثرہ علاقہ میں سو سے زائد دیہات میں ہومیو پیتھک دوائیں تقسیم کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔سال 2000 ء تک جماعت کو گنی بساؤ میں چار مساجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی جبکہ مزید چار مساجد زیر تعمیر تھیں۔بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے نصرت جہاں سکیم کے تحت وقف کر کے پہلے ڈاکٹر مکرم مبارک احمد صاحب آغا گنی بساؤ پہنچے اور ملک کے دوسرے بڑے شہر بافاٹا (Bafata) میں کلینک کا