سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 142 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 142

142 محمود احمدخلیفہ اسے منتخب ہوئے تو مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے آپ کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔بعد میں وہ قادیان کو چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے اور ترجمہ قرآن کا وہ مسودہ جو حضرت خلیفہ امسح الاول کی زیر ہدایت ونگرانی تیار ہوا تھاوہ بھی ساتھ لے گئے۔اس کے بعد حضرت مصلح موعود نمی کشتہ نے اس طرف توجہ فرمائی۔آپ نے 1915ء میں ایک پارہ کی تفسیر خود لکھی اور وہ اردو اور انگریزی میں طبع بھی ہوئی۔اور فرمایا کہ میں ایک نمونہ قائم کر رہا ہوں۔جماعت کے علماء کا کام ہے کہ وہ اسی طرز پر اس کو آگے بڑھائیں۔حضرت مصلح موعود نے حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت خان بہادر ابو الہاشم خان صاحب اور حضرت ملک غلام فرید صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی اور ان کی مجموعی کوششوں سے ایک مکمل اور مستند انگریزی ترجمہ اور پھر اس کی تفسیر بھی شائع ہوئی۔قرآن مجید کی انگریزی تفسیر قریباً تین ہزار صفحات پر پھیلی ہوتی ہے جو عجیب و غریب قرآنی معارف کا حسین و دلفریب مرقع ہے۔اس کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کا دیباچہ بھی ہے۔یورپ اور امریکہ کے چوٹی کے اہل علم نے اس کو سراہا۔اسی طرح مسلمان مشاہیر نے بھی اس کی تعریف کی۔ایک مستشرق رچرڈ بیل نے اسے قرآنی تعلیمات کو ایک ایسی شکل میں پیش کرنے کی کوشش قرار دیا جو موجودہ زمانہ کی ضروریات کے مناسب حال روحانی زندگی اور تبلیغی جدو جہد کی آئینہ دار ہے اور مجموعی لحاظ سے روشن خیالی اور ترقی پسندی پر دلالت کرتی ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے 1944ء میں مختلف زبانوں میں تراجم قرآن کریم کی اشاعت سے متعلق خصوصی تحریک فرمائی۔چنانچہ آپ نے 20 اکتوبر 1944ء کو دنیا کی آٹھ مشہور زبانوں انگریزی (انگریزی میں ترجمہ پہلے سے مکمل ہو چکا تھا) ، روسی، جرمن، فرانسیسی ، اطالوی، ڈرچ ، ہسپانوی اور پرتگیزی زبان میں قرآن مجید کے تراجم کی عظیم الشان تحریک فرمائی اور پھر اپنے عہد خلافت میں اس کی تکمیل کے لئے کامیاب جدو جہد فرمائی۔جیسا کہ قرآن مجید میں وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بم کے الفاظ میں پیشگوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے جماعت احمدیہ کے افراد مرد وزن نے اس