سلسلہ احمدیہ — Page 140
140 عطا ہوا تھا یا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) سو اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسی تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی که تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور در از سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔بلکہ۔۔۔۔1257 ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ گل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہوسکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے۔اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی۔اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کرلیں۔اور یہ دونوں امر اُس وقت غیر ممکن تھے۔لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وَمَن بَلغَ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی ان تک نہیں پہنچی۔ایسا ہی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا علم (الجمعة: 4) اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منم مخد