سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 127 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 127

127 ہے۔آسٹریلیا اس کے جنوب میں ہے۔آسٹریلیا کے شمال سے قریب ہے یہ جزیرہ بلکہ بہت سے سینکڑوں جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے۔اور مشرق میں ملائشیا ہے اور ملائشیا بھی بہت سے جزائرہ پر مشتمل ہے۔۔۔اس مسجد کے آغاز کے لئے میں نے اپنا نمائندہ رفیق چانن صاحب کو بنایا ہے جو تھائی لینڈ سے وہاں پہنچے ہیں۔رفیق چانن صاحب ہمارے Swiss احمدی ہیں۔اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ ان کو اپنی زندگی کے اس دور میں بہت تاریخی خدمات کی توفیق مل رہی ہے۔تھائی لینڈ میں بھی اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی ایسے ملکوں میں جہاں احمدیت کا نام تک لوگ نہیں جانتے تھے وہاں ان کو خدا کے فضل کے ساتھ انڈونیشیا کے مبلغین اور دوسرے رضا کاروں کی مدد سے جماعتیں قائم کرنے کی توفیق مل گئی ہے اور بہت ٹھوس کام اس علاقے میں ہو رہا ہے۔اس لئے میں نے ان کو اپنے نمائندے کے طور پر وہاں مسجد کے افتتاح کے لئے بھیجا ہے۔اس کے علاوہ بھی انڈونیشیا سے اور ارد گرد کے ممالک سے بہت سے مخلصین شرکت کے لئے وہاں آج جمع ہوئے ہیں۔یہ ایک ایسا ملک ہے جس پر عیسائیت کا بہت بھاری غلبہ ہے اور ایک عرصے تک عیسائیت کے سوا کسی کو وہاں پیغام پہنچانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔جماعت احمدیہ کو بھی آغاز میں بہت دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔عیسائیوں نے کھل کر مخالفت کی۔مسجد کی بھی مخالفت کی، ہر حکومت کی سطح پر بھی انہوں نے اثر و رسوخ ڈالنے کی کوشش کی کھل کر اخباروں میں عیسائی پادریوں نے مضمون لکھے کہ عیسائیت کے سوا اس ملک میں کسی اور کو تبلیغ کی اجازت نہیں ہوئی چاہئے اور وہ پالیسی جو ساری دنیا میں عیسائی ملک پیش کرتے ہیں آزادی ضمیر کی، جہاں موقع ملا وہاں خود اس پالیسی کو اپنے قدموں تلے کچل دیا اور کھلم کھلا مذہب کو اپنے نام منسوب کر کے اس کے تمام حقوق اپنی طرف وابستہ کر لئے۔اس سلسلے میں ہمیں بڑی جدو جہد کرنی پڑی ہے۔تمام دنیا سے ان کی ایمبیسیز کو اور ان کے ملک کو خطوط لکھوائے گئے، اخبارات میں بھی احتجاج کروائے گئے۔ان اخبارات کو جو نسب کا آزاد تھے مضامین لکھ کر بھیجے گئے۔چنانچہ اللہ کے فضل سے ان کا مثبت اثر ظاہر ہوا اور حکومت نے یہ قطعی فیصلہ کر لیا جو سیاسی حقوق ہیں اور تمدنی حقوق ہیں ان پر ہم کسی قیمت پر مذہب کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔یہاں تک کہ ان کے سب