سلسلہ احمدیہ — Page 128
128 سے بڑے افسر نے جو عیسائیت سے متاثر تھا اور متعصب تھا اس نے جب حکومت کے سامنے اس مسجد کی منظوری کے آخری فیصلے سے پہلے ایک نوٹ لکھا، میمورنڈم جس کو کہتے ہیں، اس میں کہا کہ عیسائی چونکہ بہت مخالف ہیں اس لئے اس مسئلہ پر میں ہر پہلو سے غور کرنے کے بعد پھر فیصلہ کرنا چاہئے۔تو پرائم منسٹر صاحب نے اس پر جو مختصر جواب لکھا وہ یہ تھا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو۔حکومت کے قوانین کی پابندی کرنا تمہارا کام ہے۔ان قوانین میں جہاں کہیں کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تمہارا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کرو لیکن ان قوانین سے ہٹ کر باہر کے معاملات کا تم سے کوئی تعلق نہیں۔اگر تم نے کام کرنا ہے تو قوانین کے مطابق کرو۔یہ اتنا واضح جواب تھا کہ اس کے بعد پھر کسی کو جرات نہیں ہوئی اور خدا کے فضل سے مسجد پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے، ساتھ مشن ہاؤس بھی بن گیا ہے۔اس ضمن میں اللہ تعالی کی طرف سے ایک عجیب نشان بھی ظاہر ہوا، ہر جگہ نشانات عجیب ہی ہوتے ہیں مگر یہ واقعہ ہے اس کو ریکارڈ کرانے کے لئے اسی افتتاح کے موقع پر آپ سب کے سامنے رکھتا ہوں۔عیسائیت نے جب اپنا زور مکمل کر لیا اور ناکام ہو گئی تو وہ چند مسلمان جو باہر سے آکر وہاں آباد ہوئے ہیں اور بعض امیر ملکوں سے ان کے تعلقات ہیں ان کو مدد بھی ملتی ہے، ان میں سے چند نے ایک سوسائٹی بنائی ہے اسلامک سوسائٹی ، ان کا جوسر کردہ ممبر ہے انہوں نے اکرم احمدی صاحب کو گالیوں سے بھرا ہوا خط لکھا اور انہوں نے کہا کہ کسی قیمت پر ہم یہاں یہ مسجد برداشت نہیں کریں گے۔یعنی چرچ ہر جگہ بنے ہوئے ہیں، پھیلتے جا رہے ہیں دُور دراز جزائر میں بھی کلیسا تعمیر ہورہے ہیں، ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی مگر پہلی مسجد جو تعمیر ہورہی تھی اس پر ایسی آگ لگی کہ نہ صرف گالیوں کا خط لکھا بلکہ یہ دھمکی دی کہ میں اس مسجد کو آگ لگوا دوں گا لیکن یہ مسجد ہم سے برداشت نہیں ہو سکتی۔بعد میں انہوں نے مسجد کو نا کام کرنے کی خاطر اس کے قریب ہی اپنا گھر بنوایا اور وہاں ایک اپنی مسجد چھوٹی سی تعمیر کروائی، گویا کہ وہ پہلی مسجد بن گئی۔حالانکہ یہ مسجد اس سے بہت پہلے بن چکی تھی اور انہوں نے محض ایک دکھاوے کے طور پر کہ نہیں ہم نے بھی الگ مسجد بنالی ہے۔اس شخص کے کچھ دشمن بھی تھے۔آپس میں مخالفتیں بھی تھیں۔انہوں نے اس گھر کو مسجد سمیت آگ لگا دی۔جو گھر اس آگ کے نتیجے میں بنایا گیا تھا جو اس کے دل