سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 105 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 105

105 مساجد کا قیام اسلام احمدیت کی ترقی و استحکام میں مساجد کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔مسجد وہ مقام ہے جہاں مومنین اللہ ورسول کے احکامات کے تابع خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں اور باجماعت نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں۔اور یوں اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں سے حصہ پاتے ہیں جن کا اس نے نماز با جماعت قائم کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر مسجدوں کے قیام کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:۔اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یاشہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو مجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑگئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہئے۔پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بد اخلاص ہو۔محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شتر کو ہر گز دخل نہ ہو۔جب خدا برکت دے گا۔“ ( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 119۔ایڈیشن 1985 ، مطبوعہ انگلستان) اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی اس کے آغاز سے ہی مساجد کے قیام کی طرف خصوصی توجہ ہے اور خلافت احمدیہ کے زیر ہدایت ونگرانی باقاعدہ ایک سکیم کے طور پر مساجد کی تعمیر و توسیع کا کام منظم طور پر جاری ہے۔اور بہت سے مقامات پر مرکزی نظام کے تابع مساجد کی تعمیر کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے عہد خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ دسمبر 1982ء کے موقع پر اپنے دوسرے روز کے خطاب میں بتایا کہ اس سال نو (9) مختلف ممالک میں مرکزی اخراجات کے تابع 24 / بڑی وسیع اور پختہ مساجد تعمیر کی گئیں۔اگلے سال دسمبر 1983 ء کے جلسہ کے موقع پر آپ نے بتایا کہ اس سال دس ممالک میں